Arabic Ayat (سورۃ البقرہ 31–34)
وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلَائِكَةِ فَقَالَ أَنبِئُونِي بِأَسْمَاءِ هَٰؤُلَاءِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ
قَالُوا سُبْحَانَكَ لَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا ۖ إِنَّكَ أَنتَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ
قَالَ يَا آدَمُ أَنبِئْهُم بِأَسْمَائِهِمْ ۖ فَلَمَّا أَنبَأَهُم بِأَسْمَائِهِمْ قَالَ أَلَمْ أَقُل لَّكُمْ إِنِّي أَعْلَمُ غَيْبَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ…
وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ أَبَىٰ وَاسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَافِرِينَ
Translation
He said: “O Adam, inform them of their names.” When he informed them of their names, Allah said: “Did I not tell you that I know the unseen of the heavens and the earth and I know what you reveal and what you conceal.”
اس نے فرمایا: اے آدم! ان کو ان کے ناموں کی خبر دے۔ جب اس نے ان کو ان کے ناموں کی خبر دی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: کیا میں نے تمہیں نہیں کہا تھا بے شک میں آسمانوں اور زمین کے غیب کو جانتا ہوں اور میں جانتا ہوں ان چیزوں کو جو تم ظاہر کرتے ہو اور جن کو تم چھپاتے ہو۔
And when We said to the angels: “Prostrate before Adam,” so they all prostrated except Iblis. He refused and became arrogant and he was among the disbelievers.
اور جب ہم نے فرشتوں کو کہا آدم کو سجدہ کرو بس انہوں نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے اس نے انکار کیا اور تکبر کیا اور وہ تھا انکار کرنے والوں میں سے۔
Tafseer
To show the greatness of Adam (A.S.) before the angels and for the test of the angels, Allah commanded the angels to prostrate before Adam. So all the angels prostrated but Satan did not prostrate. This prostration was not for worship, but it was a respectful prostration which was allowed in earlier laws. But in the Shariah of Muhammad ﷺ it has also been forbidden so that there is no doubt of shirk.
فرشتوں کے سامنے آدم کی عظمت ظاہر کرنے کے لیے اور فرشتوں کا امتحان لینے کے لیے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کریں تو تمام فرشتوں نے سجدہ کیا لیکن شیطان نے سجدہ نہیں کیا۔ یہ سجدہ عبادت کے لیے نہیں تھا بلکہ تعظیمی سجدہ تھا جو پہلی شریعتوں میں جائز تھا لیکن شریعت محمدی میں اس کی بھی ممانعت کر دی گئی تاکہ شرک کا کوئی شبہ باقی نہ رہے۔
And making the angels prostrate was also a demonstration that everything in the universe will be made subservient to human beings so that it is seen whether man uses them correctly or wrongly.
فرشتوں سے یہ سجدہ کروانا اس بات کا بھی مظاہرہ تھا کہ جو چیزیں کائنات میں ان کے اختیار میں دی گئی ہیں وہ تمام چیزیں انسان کے لیے مسخر کر دی جائیں گی تاکہ یہ دیکھا جائے کہ وہ ان کو صحیح استعمال کرتا ہے یا غلط۔
Although the command of prostration was given to the angels, all living creatures were included in it. Therefore Iblis, who was from the jinn, was also obligated to follow this command, but he refused due to arrogance.
اگرچہ براہ راست سجدہ کا حکم فرشتوں کو تھا لیکن تمام جاندار مخلوقات اس میں شامل تھیں لہذا ابلیس جو جنات میں سے تھا اس پر بھی اس حکم کی تعمیل لازمی تھی لیکن اس نے تکبر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو ماننے سے انکار کر دیا۔
Lessons
- Arrogance and considering oneself superior is a major sin.
اپنے آپ کو دوسروں سے بڑا سمجھنا اور بلا وجہ شیخی بگھارنا بہت بڑا گناہ ہے۔ - When Allah gives a command, it must be followed without hesitation even if its wisdom is not understood.
اللہ تعالیٰ جب کوئی حکم دے تو اس حکم پر بلا چوں چرا عمل کرنا لازم ہے اگرچہ اس کی حکمت ہماری سمجھ میں نہ آئے۔
Source: https://quran.com/2/31-32
We offer authentic Online Quran Translation, Tafseer, and Islamic Knowledge classes with experienced teachers. Learn Quran with proper understanding, meaning, and explanation from the comfort of your home.
For enrollment, guidance, or more information, feel free to contact us.
📲 WhatsApp: +92 300 5734387
ہم آن لائن قرآن ترجمہ، تفسیر اور اسلامی تعلیمات کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔ ماہر اساتذہ کی رہنمائی میں قرآن پاک کو صحیح سمجھنے اور سیکھنے کا موقع حاصل کریں۔
رابطہ اور داخلے کے لیے ابھی ہم سے رابطہ کریں۔
📲 واٹس ایپ: +92 300 5734387
