Surah Baqarah 2:89-90 Tafsir
Introduction
These verses of Surah Baqarah 2:89-90 Tafsir explain how some of the Children of Israel recognized the signs of the final Messenger ﷺ but rejected him out of jealousy and pride. Allah ﷻ warns that rejecting the truth after recognizing it leads to His displeasure and severe punishment.
English Translation (Surah Al-Baqarah 2:89-90)
And when there came to them a Book from Allah confirming what was already with them, although previously they used to pray for victory over the disbelievers through the coming of the final Prophet, yet when there came to them that which they recognized, they rejected it. So the curse of Allah is upon the disbelievers.
How evil is that for which they sold themselves—that they rejected what Allah had revealed out of envy because Allah sends His grace upon whom He wills among His servants. Thus they returned with wrath upon wrath, and for the disbelievers is a humiliating punishment.
اردو ترجمہ
اور جب ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسی کتاب آئی جو ان کے پاس موجود کتاب (تورات) کی تصدیق کرنے والی تھی، حالانکہ اس سے پہلے وہ اسی نبی کے وسیلے سے کافروں کے مقابلے میں فتح مانگا کرتے تھے، پھر جب وہ چیز آگئی جسے وہ خوب پہچانتے تھے تو اس کا انکار کر دیا۔ پس اللہ کی لعنت ہو کافروں پر۔
بہت بری چیز ہے وہ جس کے بدلے انہوں نے اپنی جانوں کو بیچ ڈالا کہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کا انکار کیا، صرف اس حسد کی وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے اپنا فضل نازل فرمائے۔ پس وہ غضب پر غضب لے کر لوٹے، اور کافروں کے لیے دردناک عذاب ہے۔
Read the previous tafsir: Surah Baqarah 2:87-88 Tafsir Surah Baqarah 2:89-90 Tafsir
Before the Qur’an was revealed, many Jewish scholars knew from the Torah that the final Prophet ﷺ would soon appear. During battles with the disbelievers, they would pray to Allah for victory through the coming of the promised Prophet.
However, when Prophet Muhammad ﷺ was sent from the descendants of Prophet Isma’il (عليه السلام) instead of Bani Israel, many of them rejected him despite recognizing the truth. Their rejection was not due to a lack of evidence but because of jealousy and pride.
Allah ﷻ declares that they made the worst bargain by rejecting divine guidance. Their envy caused them to deny both the Qur’an and the teachings of their own prophets, who had instructed them to believe in the final Messenger when he appeared.
As a result, they earned Allah’s anger upon anger, and those who persist in disbelief face a painful punishment in the Hereafter.
This Surah Baqarah 2:89-90 Tafsir reminds every believer that accepting the truth with sincerity is the path to Allah’s pleasure, while envy and arrogance lead to misguidance.
اردو تفسیر
اللہ تعالیٰ ان آیات میں فرماتے ہیں کہ جب یہودیوں کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن مجید آیا، جو ان کی موجودہ کتاب تورات کی تصدیق کرنے والا تھا، تو انہوں نے اس کا انکار کر دیا، حالانکہ اس سے پہلے وہ آخری نبی ﷺ کے وسیلے سے کافروں کے خلاف فتح کی دعائیں کیا کرتے تھے۔
جب وہ نبی ﷺ تشریف لے آئے جن کی صفات وہ اپنی کتابوں میں پڑھ چکے تھے، تو انہوں نے ایمان لانے کے بجائے حسد اور تکبر کی وجہ سے انکار کر دیا، کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ آخری نبی بنی اسرائیل میں سے ہوں گے، لیکن اللہ تعالیٰ نے نبوت کا آخری منصب بنی اسماعیل کو عطا فرمایا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ انہوں نے بہت ہی خسارے کا سودا کیا، کیونکہ انہوں نے اپنی جانوں کے بدلے ہدایت کو چھوڑ دیا۔ ان کا یہ انکار صرف قرآن کا انکار نہیں تھا بلکہ اپنے انبیاء کی تعلیمات کا بھی انکار تھا، کیونکہ ان کے انبیاء نے انہیں آخری نبی ﷺ پر ایمان لانے کا حکم دیا تھا۔
اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ غضب پر غضب لے کر لوٹے، اور آخرت میں ان کے لیے دردناک عذاب تیار ہے۔
Historical Incident
حضرت مولانا ادریس کاندھلوی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب سیرت المصطفیٰ میں ایک واقعہ نقل کیا ہے کہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ (رسول اللہ ﷺ کے والد) جب مدینہ منورہ تشریف لے گئے تو ایک یہودی راہبہ نے ان کی پیشانی میں نورِ نبوت دیکھا اور ان سے نکاح کی خواہش ظاہر کی، لیکن حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے انکار فرمایا۔
بعد میں حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کے بعد جب دوبارہ ملاقات ہوئی تو اس عورت نے بتایا کہ اب وہ نور حضرت عبداللہ کی پیشانی میں نہیں رہا، کیونکہ وہ حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا کی طرف منتقل ہو چکا ہے۔ اس نے افسوس کرتے ہوئے کہا کہ اب نبوت بنی اسرائیل سے منتقل ہو کر بنی اسماعیل میں آ چکی ہے۔
نوٹ: یہ روایت سیرت کی بعض کتابوں میں نقل ہوئی ہے، تاہم محدثین کے نزدیک اس کی سند مضبوط نہیں سمجھی جاتی، اس لیے اسے عقیدہ کی بنیاد نہیں بنایا جاتا بلکہ تاریخی روایت کے طور پر ذکر کیا جاتا ہے۔
Key Lessons from Surah Baqarah 2:89-90 Tafsir
- ہمیشہ حق کو پہچان کر قبول کرنا چاہیے۔
- حسد انسان کو ہدایت سے محروم کر دیتا ہے۔
- تکبر ایمان کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
- اللہ تعالیٰ جسے چاہے اپنے فضل سے نوازتا ہے۔
- قرآن اور رسول اللہ ﷺ پر ایمان ہی نجات کا راستہ ہے۔
- اپنے نبیوں کی حقیقی تعلیمات پر عمل کرنا ضروری ہے۔
Quran.com Ayah 89-90
Surah Baqarah 2:89-90 Tafsir Conclusion
The message of Surah Baqarah 2:89-90 Tafsir is that recognizing the truth is not enough unless it is accepted with sincerity. Jealousy, pride, and worldly desires can prevent a person from following divine guidance. Every believer should ask Allah ﷻ for sincerity, humility, and steadfastness upon the truth.
