Etiquettes of Masjid Nabawi
تعارف
مسجد نبوی شریف دنیا کی عظیم ترین اور مقدس ترین مساجد میں سے ایک ہے۔ یہ وہ مبارک مقام ہے جہاں اللہ تعالیٰ کے آخری نبی حضرت محمد ﷺ نے عبادت فرمائی، صحابۂ کرامؓ کی تربیت کی اور امت مسلمہ کو دین اسلام کی تعلیمات عطا فرمائیں۔ اسی مبارک مسجد کے ایک حصے میں روضۂ اقدس واقع ہے، جہاں رسول اللہ ﷺ آرام فرما رہے ہیں۔ اسی لیے مسجد نبوی شریف میں حاضر ہونے والے ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ ادب، احترام، خشوع، خضوع اور عاجزی کے ساتھ داخل ہو۔
مسجد نبوی شریف کی عظمت
مسجد نبوی شریف وہ عالی مرتبت دربارِ گوہر بار ہے جس کی خاک کو بھی اولیاء اور سلاطین اپنے لیے باعثِ فخر سمجھتے ہیں۔ اسی مبارک دربار کے ایک گوشے میں مقصودِ کائنات حضرت محمد ﷺ آرام فرما رہے ہیں۔ اس لیے اس عظیم مقام میں داخل ہوتے وقت دل میں محبتِ رسول ﷺ، زبان پر درود و سلام اور ظاہری و باطنی ادب ہونا چاہیے۔
شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
“جب مسجد نبوی شریف میں آئیں تو اس کی عظمت، شرف اور عزت کو ہمیشہ اپنے دل میں تازہ رکھیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں وحی نازل ہوئی، جہاں اللہ تعالیٰ کی رحمتیں برسیں اور جہاں خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ نے عبادت فرمائی۔”
مسجد نبوی شریف میں داخل ہونے کے آداب
جب مسجد نبوی شریف میں داخل ہونے کی سعادت حاصل ہو تو نہایت سکون، وقار، عاجزی اور خشوع کے ساتھ داخل ہوں۔ مسجد کی خوبصورتی اور آرائش میں مشغول ہونے کے بجائے اللہ تعالیٰ کی یاد اور رسول اللہ ﷺ کی محبت میں دل کو مشغول رکھیں۔
غیر ضروری گفتگو، ہنسی مذاق اور دنیاوی باتوں سے مکمل اجتناب کریں۔ مسجد کے ہر لمحے کو عبادت، ذکر، دعا اور تلاوتِ قرآن میں گزارنے کی کوشش کریں۔
مسجد میں داخل ہوتے ہی اعتکاف کی نیت کر لینا بھی سنت اور باعثِ اجر ہے، چاہے چند لمحوں کے لیے ہی کیوں نہ ہو۔ یہ ایک چھوٹا سا عمل ہے مگر اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت عظیم اجر کا سبب بنتا ہے.
Etiquettes of Masjid Nabawi
مسجد نبوی شریف میں اعتکاف کی نیت کرنا
آدابِ مسجد نبوی شریف میں یہ بھی شامل ہے کہ مسجد میں داخل ہوتے ہی اعتکاف کی نیت کر لی جائے، چاہے چند لمحوں کے لیے ہی کیوں نہ ہو۔ اعتکاف کی نیت ایک نہایت آسان لیکن اجر و ثواب سے بھرپور عمل ہے۔ ہر مسلمان کو چاہیے کہ جب بھی کسی مسجد میں داخل ہو، اعتکاف کی نیت ضرور کرے تاکہ اسے اس عبادت کا بھی ثواب حاصل ہو۔
علمائے کرام فرماتے ہیں کہ مسجد نبوی شریف میں ہر نیکی کا اجر کئی گنا بڑھ جاتا ہے، اس لیے معمولی سے معمولی نیک عمل کو بھی معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔
تحیۃ المسجد ادا کرنا
مسجد نبوی شریف میں داخل ہونے کے بعد اگر موقع میسر ہو تو ریاض الجنہ میں جا کر تحیۃ المسجد کے دو نفل ادا کریں۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں رسول اللہ ﷺ نماز ادا فرمایا کرتے تھے۔
نماز میں قرأت زیادہ طویل نہ کریں بلکہ پہلی رکعت میں سورۂ الکافرون اور دوسری رکعت میں سورۂ الاخلاص پڑھنا بہتر ہے۔
اگر ریاض الجنہ میں جگہ نہ مل سکے تو مسجد کے کسی دوسرے حصے میں تحیۃ المسجد ادا کر لیں، کیونکہ پوری مسجد نبوی شریف فضیلت و برکت والی ہے۔
اگر جماعت شروع ہونے والی ہو تو نفل چھوڑ کر فرض جماعت میں شامل ہو جانا چاہیے، کیونکہ فرض نماز جماعت کے ساتھ ادا کرنا زیادہ اہم ہے۔
اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں
تحیۃ المسجد ادا کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کا دل کی گہرائی سے شکر ادا کریں کہ اس نے آپ کو مسجد نبوی شریف کی حاضری جیسی عظیم نعمت عطا فرمائی۔
اس کے بعد اخلاص کے ساتھ اپنے لیے، اپنے والدین، اہلِ خانہ، امتِ مسلمہ اور دنیا و آخرت کی بھلائی کے لیے دعائیں کریں۔
یقین رکھیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے محبوب ﷺ کے شہر میں مانگی جانے والی سچی دعاؤں کو ضائع نہیں فرماتا۔
مسجد میں داخل ہونے کی دعا
مسجد نبوی شریف یا کسی بھی مسجد میں داخل ہوتے وقت یہ دعا پڑھیں:
اَللّٰهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ
ترجمہ:
“اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔”
حضرت فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں داخل ہوتے وقت درود شریف پڑھنے کے بعد یہ دعا بھی فرمایا کرتے تھے:
رَبِّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ
ترجمہ:
“اے میرے رب! میرے گناہوں کو بخش دے اور میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔”
مسجد سے باہر نکلنے کی دعا
جب مسجد نبوی شریف سے باہر نکلیں تو یہ دعا پڑھیں:
اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ
ترجمہ:
“اے اللہ! میں تجھ سے تیرے فضل کا سوال کرتا ہوں۔”
رسول اللہ ﷺ یہ دعا بھی پڑھا کرتے تھے:
رَبِّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ فَضْلِكَ
ترجمہ:
“اے میرے رب! میرے گناہ معاف فرما اور میرے لیے اپنے فضل کے دروازے کھول دے۔”
مسجد نبوی شریف میں خاموشی اور احترام
آدابِ مسجد نبوی شریف کا اہم تقاضا یہ ہے کہ مسجد کے اندر ہمیشہ آہستہ آواز میں گفتگو کی جائے۔
بلند آواز سے بات کرنا، شور کرنا، ہنسی مذاق کرنا یا دنیاوی گفتگو میں مشغول رہنا مسجد کے ادب کے خلاف ہے۔
حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے مسجد نبوی شریف میں بلند آواز سے گفتگو کرنے والے دو افراد کو بلایا اور فرمایا:
“اگر تم مدینہ منورہ کے رہنے والے ہوتے تو میں تمہیں سزا دیتا، کیونکہ تم رسول اللہ ﷺ کی مسجد میں بلند آواز سے گفتگو کر رہے ہو۔”
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ مسجد نبوی شریف میں ہر مسلمان کو انتہائی ادب، خاموشی اور وقار اختیار کرنا چاہیے۔
Etiquettes of Masjid Nabawi
مسجد نبوی شریف میں ذکر، تلاوت اور درود و سلام
مسجد نبوی شریف میں گزارا جانے والا ہر لمحہ قیمتی ہے، اس لیے زائر کو چاہیے کہ اپنا زیادہ سے زیادہ وقت اللہ تعالیٰ کے ذکر، تلاوتِ قرآن مجید، نوافل، دعا، استغفار اور رسول اللہ ﷺ پر درود و سلام بھیجنے میں صرف کرے۔
علمائے کرام فرماتے ہیں کہ مسجد نبوی شریف میں فرض نمازوں کے بعد سب سے افضل عبادت بارگاہِ رسالت ﷺ میں ادب و محبت کے ساتھ درود و سلام پیش کرنا ہے۔ اس مبارک حاضری کو دنیا کی سب سے بڑی نعمت سمجھیں اور ہر لمحہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں۔
لغو، فضول اور دنیاوی گفتگو سے حتیٰ الامکان اجتناب کریں اور اپنے دل کو اللہ تعالیٰ کی یاد سے آباد رکھیں۔
باجماعت نماز کا خصوصی اہتمام
آدابِ مسجد نبوی شریف میں سب سے اہم امور میں سے ایک یہ ہے کہ پانچوں فرض نمازیں باجماعت ادا کرنے کی بھرپور کوشش کی جائے۔
رسول اللہ ﷺ کی مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنا بہت بڑی سعادت ہے، اس لیے نماز کے وقت پہلے سے مسجد میں موجود رہیں اور صفوں کو مکمل کریں۔
حتیٰ الامکان صفِ اوّل میں نماز ادا کرنے کی کوشش کریں، کیونکہ پہلی صف کی بہت فضیلت بیان کی گئی ہے۔
بدبو والی اشیاء کے ساتھ مسجد میں داخل نہ ہوں
مسجد نبوی شریف کے ادب کا تقاضا ہے کہ کوئی شخص لہسن، پیاز یا ایسی کوئی چیز کھا کر مسجد میں داخل نہ ہو جس کی بو سے دوسرے نمازیوں کو تکلیف پہنچے۔
اسی طرح سگریٹ یا کسی بھی ناگوار بو کے ساتھ مسجد میں آنا بھی مناسب نہیں، کیونکہ مسجد اللہ تعالیٰ کا گھر ہے اور یہاں آنے والے ہر مسلمان کے آرام اور احترام کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
جوتوں کے آداب
مسجد نبوی شریف کے احترام کا تقاضا یہ ہے کہ جوتوں کو مسجد کے اندر لے جانے کے بجائے باہر موجود الماریوں یا مقررہ جگہ پر رکھ دیا جائے۔
اگرچہ بعض حالات میں جوتے ساتھ رکھنے کی گنجائش ہو سکتی ہے، لیکن مسجد نبوی شریف کے عمومی نظم و احترام کو مدنظر رکھتے ہوئے انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کرنا چاہیے۔
ریاض الجنہ میں نوافل ادا کرنے کا طریقہ
اگر اللہ تعالیٰ ریاض الجنہ میں عبادت کا موقع عطا فرمائے تو نہایت سکون، عاجزی اور صبر کے ساتھ وہاں نوافل ادا کریں۔
اکثر دیکھا جاتا ہے کہ لوگ جگہ حاصل کرنے کے لیے دھکم پیل یا دوڑ لگاتے ہیں، جبکہ یہ عمل آدابِ مسجد نبوی شریف کے خلاف ہے۔
کسی مسلمان کو تکلیف پہنچا کر عبادت کی جگہ حاصل کرنا مناسب نہیں۔ اللہ تعالیٰ اخلاص، صبر اور حسنِ اخلاق کو پسند فرماتا ہے۔
مسجد نبوی شریف کی توسیع اور اس کا حکم
یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ مسجد نبوی شریف صرف اسی حصے کا نام نہیں جو رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں تعمیر ہوا تھا، بلکہ بعد میں ہونے والی تمام مستقل توسیعات بھی مسجد نبوی شریف ہی کا حصہ ہیں۔
اس لیے پوری مسجد میں نماز ادا کرنے کا اجر و ثواب حاصل ہوتا ہے۔ اگر ہجوم کی وجہ سے کسی حصے میں جگہ نہ ملے تو مسجد کے دوسرے حصے میں نماز ادا کرنا بھی برابر فضیلت رکھتا ہے۔
اگر مسجد کے اندر کسی بھی جگہ نماز کی گنجائش نہ ہو تو مجبوری کی صورت میں باہر ادا کی جانے والی نماز بھی ان شاء اللہ اجر و ثواب کا باعث ہے، لیکن بلا عذر باہر نماز پڑھنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔
احادیثِ مبارکہ
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“اگر میری یہ مسجد صنعاء (یمن) تک بھی وسیع کر دی جائے تو پھر بھی یہ میری ہی مسجد ہے۔”
اسی طرح حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
“اگر مسجد نبوی شریف کو ذوالحلیفہ تک وسیع کر دیا جائے تب بھی وہ مسجد نبوی ہی کہلائے گی اور اس کی عظمت و فضیلت برقرار رہے گی۔”
یہ روایات اس بات کی دلیل ہیں کہ مسجد نبوی شریف کی توسیع سے اس کی فضیلت اور حرمت میں کوئی کمی نہیں آتی۔
خلاصہ
آدابِ مسجد نبوی شریف ہر مسلمان کے لیے نہایت اہم ہیں۔ مسجد نبوی شریف میں داخل ہوتے وقت ادب، خشوع، عاجزی، خاموشی، ذکرِ الٰہی، تلاوتِ قرآن، درود و سلام، باجماعت نماز، دعا، حسنِ اخلاق اور دوسرے مسلمانوں کا خیال رکھنا ایک سچے عاشقِ رسول ﷺ کی پہچان ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں مسجد نبوی شریف کی بار بار حاضری نصیب فرمائے، اس کے تمام آداب پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور رسول اللہ ﷺ کی محبت ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رکھے۔
آمین یا رب العالمین۔
