Introduction
The construction of Masjid an-Nabawi (The Prophet’s Mosque) marked one of the greatest milestones in Islamic history. After the blessed migration (Hijrah) to Madinah, Prophet Muhammad ﷺ immediately established a central place for worship, education, unity, and community affairs. This sacred mosque became the heart of the Islamic state and continues to be one of the holiest places for Muslims around the world.
تاریخِ تعمیرِ مسجدِ نبوی ﷺ
History of Masjid an-Nabawi
جب سرورِ کون و مکان، حضرت محمد ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو ابتدائی قیام حضرت ابو ایوب انصاریؓ کے گھر فرمایا۔ دعوتِ اسلام، مسلمانوں کی رہنمائی اور اسلامی معاشرے کی بنیاد مضبوط کرنے کے لیے آپ ﷺ نے سب سے پہلے مسجد کی تعمیر کا فیصلہ فرمایا۔
اگرچہ کسی صحیح روایت میں مسجد نبوی ﷺ کے سنگِ بنیاد کی قطعی تاریخ موجود نہیں، لیکن مختلف تاریخی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ قباء میں تقریباً چودہ دن قیام فرمانے کے بعد مدینہ منورہ تشریف لائے اور چند دن بعد مسجد نبوی ﷺ کی تعمیر کا آغاز فرمایا۔
مسجد کی جگہ کا انتخاب
جب رسول اللہ ﷺ کی اونٹنی اس مقام پر بیٹھی جہاں آج مسجد نبوی موجود ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا:
هٰذَا إِنْ شَاءَ اللّٰهُ الْمَنْزِلُ
“ان شاء اللہ یہی ہمارا قیام ہوگا۔”
یہ زمین دو یتیم بچوں سہل اور سہیل کی ملکیت تھی جو حضرت اسعد بن زرارہؓ کی کفالت میں تھے۔
زمین خریدنے کا عظیم نمونہ
بچوں نے محبت سے یہ زمین ہدیہ کرنا چاہی، لیکن رسول اللہ ﷺ نے بلا معاوضہ قبول کرنے سے انکار فرمایا۔
صحیح بخاری میں آتا ہے:
فَأَبَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَنْ يَقْبَلَهَا هِبَةً حَتَّى ابْتَاعَهَا
یعنی رسول اللہ ﷺ نے زمین بطور ہدیہ قبول نہیں فرمائی بلکہ قیمت ادا کرکے خریدی، تاکہ انصاف اور حقوق العباد کا بہترین نمونہ قائم ہو۔
روایات کے مطابق اس زمین کی قیمت دس دینار ادا کی گئی۔
ابتدائی مسجد نبوی کی تعمیر
ابتدائی مسجد نبوی نہایت سادہ تھی۔
اس کی نمایاں خصوصیات یہ تھیں:
- کھجور کے تنوں کے ستون
- کھجور کی شاخوں کی چھت
- مٹی اور کنکریوں کا فرش
- سادگی، اخلاص اور عبادت کا مرکز
یہ مسجد صرف نماز کی جگہ نہیں بلکہ:
- اسلامی تعلیم کا مرکز
- دعوت و تبلیغ کا مرکز
- مسلمانوں کی مشاورت کا مقام
- اسلامی ریاست کا پہلا انتظامی مرکز
- مہمانوں اور وفود کے استقبال کی جگہ
بن گئی۔
حضرت ابو ایوب انصاریؓ کی میزبانی
رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابو ایوب انصاریؓ کے گھر قیام فرمایا جبکہ مسجد نبوی کی تعمیر جاری رہی۔
حضرت ابو ایوبؓ کو یہ عظیم سعادت حاصل ہوئی کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کی میزبانی کی۔
مسجد نبوی کی عظمت
اگرچہ مسجد نبوی کی پہلی عمارت انتہائی سادہ تھی، لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کی عظمت بے مثال تھی۔
یہ وہ مبارک مقام ہے جہاں:
- رسول اللہ ﷺ نے نماز ادا فرمائی۔
- صحابۂ کرامؓ نے دین سیکھا۔
- قرآن کی تعلیم عام ہوئی۔
- اسلامی اخوت کی بنیاد رکھی گئی۔
- پوری امت کے لیے ہدایت کا مرکز قائم ہوا۔
حاصلِ کلام
مسجد نبوی کی تعمیر ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ مضبوط معاشرہ صرف خوبصورت عمارتوں سے نہیں بلکہ ایمان، اخلاص، عدل اور تعلیم سے بنتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے مسجد کی تعمیر کے ذریعے ایک ایسا اسلامی مرکز قائم فرمایا جس نے پوری دنیا کی تاریخ بدل دی۔
Construction History of Masjid an-Nabawi
Masjid an-Nabawi remains one of the greatest symbols of Islam. Its humble beginning reflects the values of justice, sincerity, unity, and devotion. The Prophet Muhammad ﷺ established this mosque not merely as a place of worship but as the heart of the first Islamic society, inspiring millions of Muslims until today.
Hanafi Ruling on Combining Two Prayers
