Introduction
Hazrat Adam Aur Shaitan Ka Waqia is one of the important events mentioned in the Holy Quran. In this lesson, we learn how Allah Ta’ala commanded Hazrat Adam علیہ السلام and Hazrat Hawwa علیہا السلام to live in Paradise and how Shaitan deceived them. This post contains the same translation and tafseer in Urdu and English.
تعارف
Hazrat Adam Aur Shaitan Ka Waqia قرآن مجید کے اہم واقعات میں سے ایک ہے۔ اس سبق میں ہم سیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہا السلام کو جنت میں رہنے کا حکم دیا اور شیطان نے کس طرح انہیں بہکایا۔ اس پوسٹ میں یہی ترجمہ اور تفسیر اردو اور انگلش دونوں میں موجود ہے۔
Quran Translation in English
“And We said, O Adam! You and your wife live in Paradise and eat from it happily wherever you want, but do not go near this tree, otherwise you will become among the wrongdoers.
Then Satan caused both of them to slip and removed them from the place where they were living. And We said, ‘Go down from here. Some of you will be enemies to others, and for you on the earth there is a place to stay and benefit for a fixed time.’”
اردو ترجمہ
اور ہم نے کہا اے آدم! تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو اور اس میں جہاں سے چاہو خوشی کے ساتھ کھاؤ پیو، لیکن اس درخت کے قریب نہ جانا، ورنہ تم ظالموں میں سے ہو جاؤ گے۔
پھر شیطان نے ان دونوں کو پھسلا دیا اور انہیں اس جگہ سے نکال دیا جہاں وہ رہتے تھے۔ اور ہم نے کہا نیچے اتر جاؤ، تم ایک دوسرے کے دشمن ہو گے، اور تمہارے لیے زمین میں ایک مقرر وقت تک رہنے کی جگہ اور فائدہ اٹھانے کا سامان ہے۔
Hazrat Adam Aur Shaitan Ka Waqia Tafseer in English
In the previous lesson, you learned that when Allah Ta’ala tested Hazrat Adam علیہ السلام and the angels, Hazrat Adam علیہ السلام succeeded in the test. Then Allah Ta’ala ordered all the angels to prostrate before Adam علیہ السلام in order to show his greatness. All the angels obeyed, but Iblis refused to obey Allah’s command.
Surah Al-Baqarah Ayat 31-34 Tafseer
Maulana Rumi رحمۃ اللہ علیہ says that if Shaitan had learned a lesson from Ayaz, the servant of Sultan Mahmood Ghaznavi رحمۃ اللہ علیہ, he would not have become cursed forever.
Sultan Mahmood Ghaznavi was a very pious and brave king. He had a young servant named Ayaz whom he loved very much and always kept close to himself. One day, the ministers objected and asked why the king gave so much importance to a young servant.
Later, during an attack on the Somnath temple, the Sultan found a very precious diamond. In the royal court, he ordered his ministers to break the diamond with a hammer, but all of them refused and said that such a valuable diamond should either be used or sold for the benefit of the people.
Then the Sultan ordered Ayaz to break it. Without asking any question, Ayaz immediately broke the diamond. The king asked him why he broke such a precious jewel. Ayaz replied, “This diamond was valuable, but not more valuable than the command of my Sultan.”
After this event, Allah Ta’ala commanded Hazrat Adam علیہ السلام that he and his wife should live in Paradise and eat freely from wherever they wished, but they should not go near a certain tree. If they approached the tree, they would become wrongdoers.
The commentators explain that the forbidden tree was the wheat tree. Although wheat in this world is a small plant, the matters of Paradise are different, and there it was in the form of a tree.
When both Hazrat Adam علیہ السلام and Hazrat Hawwa علیہا السلام began living happily in Paradise, Shaitan, who was their eternal enemy, could not tolerate it. He swore to them that he was their well-wisher and said that Allah had forbidden this tree only because if they ate from it, they would live in Paradise forever and never die.
In this way, Shaitan deceived them with attractive words until they slipped from the right path. Then Hazrat Adam علیہ السلام and Hazrat Hawwa علیہا السلام ate from the tree.
After they ate from it, Allah Ta’ala commanded them to leave Paradise and go down to the earth. Since Shaitan became the cause of this event, the Quran says that Shaitan drove them out of Paradise.
The commentators mention that Allah Ta’ala sent Hazrat Adam علیہ السلام to an island in Sri Lanka and Hazrat Hawwa علیہا السلام to a mountain in Jeddah. Later, they met in the plain of Arafat during Hajj. The place is called Arafat because the word Arafat means recognition or acquaintance, and it was there that Adam and Hawwa recognized each other again.
Allah Ta’ala also declared that the descendants of mankind would become enemies to one another and that they would live on the earth and benefit from its blessings until an appointed time, meaning until death.
حضرت آدم اور شیطان کا واقعہ تفسیر
پچھلے سبق میں آپ نے پڑھا کہ جب اللہ تعالیٰ نے آدم اور فرشتوں کا امتحان لیا تو آدم علیہ السلام اس میں کامیاب ہو گئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آدم کی عظمت کو ظاہر کرنے کے لیے تمام فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو۔ تمام فرشتوں نے سجدہ کیا لیکن ابلیس لعین نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو ماننے سے انکار کر دیا۔
Is se pehle aap ye tafseer bhi parh sakte hain:
Surah Al-Baqarah Ayat 31-34 Tafseer
حضرت مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کاش شیطان محمود غزنوی رحمۃ اللہ علیہ کے غلام ایاز سے سبق سیکھ لیتا۔ اس کا قصہ کچھ یوں ہے کہ سلطان محمود غزنوی بڑے نیک اور مجاہد بادشاہ تھے۔ ان کا ایاز نامی غلام تھا۔ وہ نو عمر تھا۔ سلطان اس سے بہت محبت کرتے تھے اور ہمیشہ اسے اپنے ساتھ بٹھاتے تھے۔
ایک دفعہ سلطان کے وزیروں نے اعتراض کیا کہ آپ ایک بچے کو اپنے ساتھ کیوں بٹھاتے ہیں۔ تو سلطان اس بات کو سن کر خاموش ہو گئے۔ پھر جب سلطان نے سومنات مندر پر حملہ کیا تو ایک بہت قیمتی ہیرا سلطان کو ملا۔ سلطان نے اسے اٹھا کر اپنی جیب میں ڈال لیا۔
پھر جب دربار میں تمام وزیر بیٹھے تھے تو سلطان نے اپنی جیب سے وہی ہیرا نکال کر باہر رکھا۔ پھر ان وزیروں کو حکم دیا کہ اس ہیرے کو ہتھوڑے اور پتھر کی مدد سے توڑو۔ تو تمام وزیروں نے کہا کہ یہ ہیرا بہت قیمتی ہے۔ اس کو توڑنے سے بہتر ہے کہ اسے استعمال کیا جائے یا اس کو بیچ کر اس کی قیمت سے رعایا کی ضرورتیں پوری کی جائیں۔
ان کی یہ بات سن کر سلطان نے ایاز کو حکم دیا کہ اس ہیرے کو تم توڑو۔ تو ایاز نے کسی سوال جواب کے بغیر فوراً اس کو توڑ دیا۔ تو بادشاہ نے کہا تم نے اس ہیرے کو کیوں توڑا حالانکہ یہ تو بہت قیمتی تھا۔ تو ایاز نے جواب دیا یہ ہیرا جتنا بھی قیمتی تھا لیکن سلطان کے حکم سے زیادہ قیمتی نہیں تھا۔
بہرحال اس واقعے کے بعد ہم نے آدم کو حکم دیا کہ تم اور تمہاری بیوی تم دونوں جنت میں رہو اور اس جنت میں جہاں سے مرضی چاہو خوب کھاؤ پیو لیکن تم نے اس درخت کے قریب نہیں جانا۔ اگر تم اس درخت کے قریب جاؤ گے تو اپنے آپ پر ظلم کرو گے۔
مفسرین فرماتے ہیں کہ جس درخت کے قریب نہ جانے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا وہ گندم کا درخت تھا، لیکن اس پر سوال پیدا ہوگا کہ گندم کا درخت تو نہیں ہوتا بلکہ ایک چھوٹا سا پودا ہوتا ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ جنت کا معاملہ الگ ہے۔ دنیا میں جو پودا ہوگا وہ جنت میں درخت ہوگا۔
پھر جب دونوں جنت میں ہنسی خوشی رہنے لگے تو شیطان جو ان دونوں کا ازلی دشمن تھا یہ برداشت نہیں کر سکا۔ اس نے ان دونوں کو قسم اٹھا کر کہا کہ میں تمہارا خیر خواہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس درخت کو کھانے سے اس لیے منع کیا ہے کہ کہیں تم اس درخت کو کھا کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جنت میں نہ رہنے لگ جاؤ کیونکہ اس درخت کی خاصیت ہے کہ جو اس درخت سے کھاتا ہے وہ ہمیشہ ہمیشہ زندہ رہتا ہے، کبھی اس پر موت نہیں آتی۔
غرض اس طرح کی چکنی چپڑی باتیں کر کے ان دونوں کو حق بات سے پھسلا دیا۔ پھر جب آدم اور حوا علیہما السلام نے اس درخت کے پھل کو کھایا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم دونوں اس جنت سے زمین کی طرف نکل جاؤ۔
لیکن اس نکلنے کا سبب چونکہ شیطان بنا تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا کہ شیطان نے ان دونوں کو اس جنت سے نکال دیا۔
بہرحال اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اب تم دونوں زمین کی طرف چلے جاؤ۔ مفسرین فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو سری لنکا کے ایک جزیرے میں اتارا تھا اور حضرت حوا علیہا السلام کو جدہ کے ایک پہاڑ پر اتارا تھا۔ پھر حج کے موقع پر میدان عرفات میں ان دونوں کی ملاقات ہوئی تھی۔
عرفات کو عرفات بھی اسی لیے کہتے ہیں کیونکہ عرفات کا معنی ہے جان پہچان اور اسی میدان میں آدم اور حوا کی جان پہچان ہوئی تھی۔
اور اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ تمہاری اولاد ایک دوسرے کی دشمن ہوگی اور تم ایک وقت مقرر تک یعنی موت تک زمین میں رہو گے اور اس کی نعمتوں سے فائدے حاصل کرتے رہو گے۔
Conclusion
Hazrat Adam Aur Shaitan Ka Waqia teaches us that success lies in obeying Allah Ta’ala while following Shaitan leads to loss and regret. Muslims should remain careful of Shaitan’s tricks and always seek guidance from Allah.
