Introduction
Surah Baqarah Ayat 180 Tafseer discusses wills, inheritance, and the responsibility of fulfilling a will. This verse and its provided Urdu explanation address the importance of avoiding unjust changes to a will and correcting instructions that involve wrongdoing.
Surah Baqarah Ayat 180 Tafseer in Urdu
The Urdu translation and detailed explanation of this verse are provided above. Read them to understand the discussion about wills, inheritance, and the correction of injustice.
Important Lessons from Surah Baqarah Ayat 180
- Understand the Islamic guidance regarding wills and inheritance.
- Avoid making unauthorized changes to a person’s will.
- Correct instructions that involve injustice or wrongdoing according to the explanation provided.
Read the Quran Online
Explore more Quran translation and tafseer lessons at HafizTalha.com and continue learning about the teachings of the Holy Quran.
Conclusion
Surah Baqarah Ayat 180 Tafseer provides an explanation of wills, inheritance, and correcting injustice. Read the Urdu translation and tafseer above and explore more Quran learning resources on HafizTalha.com.
سورۃ البقرہ آیت 180 کا ترجمہ اور تفسیر | Surah Baqarah Ayat 180 Tafseer
تعارف
سورۃ البقرہ آیت 180 میں وصیت، وراثت اور وصیت میں تبدیلی کے متعلق احکام بیان کیے گئے ہیں۔ اس آیت کی تفسیر میں بتایا گیا ہے کہ وصیت کو پورا کرنا اور اس میں ناجائز رد و بدل سے بچنا کیوں ضروری ہے۔
ترجمہ
فرض کیا گیا ہے تم پر جب کہ حاضر ہو تم میں سے کسی ایک پر موت اگر وہ چھوڑے خیر کو وصیت کرنا والدین کے لیے اور رشتہ داروں کے لیے اچھے طریقے سے یہ حق ہے متقین کے لیے پس جس شخص نے بدلا اس کو اس کو سننے کے بعد بس سوائے اس کے نہیں اس کا گناہ ان لوگوں پر ہوگا جو اس کو بدلتے ہیں بے شک اللہ سننے والے جاننے والے ہیں پس جو شخص خوف کرے وصیت کرنے والے سے ظلم کا یا گناہ کا بس اصلاح کرے اس پر بس اس پر کوئی گناہ نہیں ہے بے شک اللہ تعالی بخشنے والے رحم کرنے والے ہیں
تفسیر
اس ایت میں اللہ تعالی ایک حکم بیان فرماتے ہیں جو تقوی سے ہی متعلق ہے لیکن یہ حکم منسوخ ہو چکا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ تم میں سے جو شخص مرنے کے قریب ہو اور اس کے پاس مال و دولت بھی ہو تو اسے چاہیے کہ اپنے والدین یا اپنے قریبی رشتہ داروں کے لیے کوئی وصیت کر کے جائے یہ وصیت کا فرض ہونا ابتدائے اسلام میں تھا جب وراثت کے احکام نازل نہیں ہوئے تھے جب وراثت کے احکام نازل ہو گئے جو سورۃ النساء میں تفصیل کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں تو پھر وصیت کی فرضیت ختم ہو گئی البتہ تہائی مال میں وصیت کرنا اب جائز ہے لیکن میت کے مال میں سے سب سے پہلے اس کے حقوق اور قرضے وغیرہ ادا کیے جائیں گے پھر جو بچے گا اس میں وصیت وغیرہ جاری ہوگی اور وصیت پوری کرنے کے بعد باقی دو حصے وارثوں کو دیے جائیں گے اور یہ بھی جائز نہیں ہے کہ سب کچھ وصیت کر دے اور ورثوں کے لیے کچھ بھی باقی نہ چھوڑے جیسا کہ بخاری شریف میں مذکور ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں فتح مکہ والے سال بیمار ہو گیا اور بچنے کی کوئی امید نہیں تھی میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ میرے پاس بہت سا مال ہے اور میری ایک بیٹی ہے کیا میں اپنے سارے مال کی وصیت نہ کر دوں تو اپ نے فرمایا نہیں پھر میں نے سوال کیا کہ دو تہائی کی وصیت نہ کر دوں تو اپ نے فرمایا نہیں پھر میں نے سوال کیا کہ نصف کی وصیت نہ کر دوں تو اپ نے فرمایا نہیں پھر میں نے سوال کیا کہ ایک تہائی کی وصیت نہ کر دوں تو اپ نے اس کی اجازت دی اور فرمایا کہ تہائی بھی بہت ہے اسی طرح حضرت انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ جس شخص نے میراث میں سے اپنے وارث کا حصہ کاٹا اللہ تعالی جنت کی میراث میں سے اس کا حصہ کاٹ دیں گے بہرحال اللہ تعالی اگلی ایت میں فرماتے ہیں کہ جن لوگوں نے مرنے والے کی وصیت کو سنا انہیں چاہیے کہ اس وصیت کو من وعن پورا کریں اس میں اپنی طرف سے کوئی رد و بدل نہ کریں مثلا مرنے والے نے وصیت کی کہ میرا تہائی مال مسجد پر خرچ کرنا یہ کسی دینی مدرسہ میں دے دینا لیکن جن لوگوں نے اس وصیت کو سنا وہ کہتے ہیں کہ ہمارا راستہ خراب ہے ہم ان پیسوں سے اس راستے کی مرمت کر دیتے ہیں تو ایسا کرنا جائز نہیں ہے اگر وہ اپنی طرف سے رد و بدل کریں گے تو گنہگار ہوں گے کیونکہ اللہ تعالی حقیقت حال کو خوب جانتے ہیں اگلی ایت میں اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اگر مرنے والا کسی گناہ یا ظلم کی وصیت کر دے تو اس میں اصلاح کرنا اور اس کو بدلنا جائز ہے اس میں کوئی گناہ نہیں ہے
وصیت اور وراثت کے اہم نکات
- وصیت کے احکام کو سمجھنا ضروری ہے۔
- وصیت میں ناجائز تبدیلی کرنے سے بچنا چاہیے۔
- ظلم یا گناہ پر مشتمل وصیت کی اصلاح کی جا سکتی ہے۔
قرآن کی مزید تعلیمات
قرآن مجید کا ترجمہ اور تفسیر سیکھنے کے لیے ہماری آن لائن قرآن اکیڈمی وزٹ کریں اور قرآن فہمی کے مزید اسباق پڑھیں۔
