Surah Baqarah Ayat 47-48 – Introduction
چھلی آیات میں بنی اسرائیل کی مختلف بدعنوانیوں، شرارتوں اور نافرمانیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ مزید تفصیل کے لیے [Surah Baqarah Ayat 120] کی تفسیر بھی پڑھیں۔
Surah Baqarah Ayat 47-48 میں اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو اپنی نعمتیں یاد کرنے اور قیامت کے دن سے ڈرنے کی نصیحت فرماتے ہیں۔ ان آیات میں واضح کیا گیا ہے کہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا چاہیے اور آخرت کے لیے اپنے اعمال درست کرنے چاہئیں۔
پچھلی آیات میں بنی اسرائیل کی مختلف بدعنوانیوں، شرارتوں اور نافرمانیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اب ان آیات میں دوبارہ اللہ تعالیٰ اپنی نعمتوں کو یاد دلاتے ہیں اور آخرت کے دن کی حقیقت سے آگاہ فرماتے ہیں۔
Surah Baqarah Ayat 47 – Urdu Translation
اے بنی اسرائیل! یاد کرو میری ان نعمتوں کو جو میں نے تم پر کیں اور اس بات کو کہ میں نے تم کو فضیلت دی تمام جہان والوں پر۔
Surah Baqarah Ayat 48 – Urdu Translation
اور ڈرو اس دن سے جس میں کوئی آدمی کسی کو فائدہ نہیں دے گا، اور نہ اس سے کوئی فدیہ قبول کیا جائے گا، نہ فائدہ دے گی اس کو کوئی سفارش، اور نہ ان کی کوئی مدد کی جائے گی۔
Surah Baqarah Ayat 47-48 – English Translation
O Children of Israel! Remember My favors which I bestowed upon you and that I gave you excellence over the people of your time.
And fear a Day when no soul will be able to benefit another soul in any way, nor will any ransom be accepted from it, nor will intercession benefit it, nor will they be helped.
Surah Baqarah Ayat 47-48 – Urdu Tafseer
Surah Baqarah Ayat 47-48 سے پہلے کی آیات میں بنی اسرائیل کی مختلف بدعنوانیوں، شرارتوں اور نافرمانیوں کا ذکر کیا گیا اور ان کے برے انجام سے آگاہ کیا گیا۔ آخر میں بعض لوگوں کا استثنا بھی کیا گیا اور انہیں مختلف نصیحتیں کی گئیں۔
اب اللہ تعالیٰ دوبارہ انہی الفاظ کو بیان فرماتے ہیں جو پہلے بھی گزر چکے ہیں۔ اس تکرار کا مقصد بنی اسرائیل کو یہ سمجھانا ہے کہ ان کا برا انجام محض اس وجہ سے نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی ان کے لیے برا انجام مقرر کر رکھا تھا، بلکہ ان کے اپنے برے اعمال اور نافرمانیاں اس انجام کا سبب بنیں۔
بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کی نعمتیں
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“اے بنی اسرائیل! میری ان نعمتوں کو یاد کرو جو میں نے تم پر کیں۔”
بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ نے بہت سی نعمتیں عطا فرمائیں۔ ان میں سے ایک بڑی نعمت یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں فرعون کے ظلم و ستم سے نجات عطا فرمائی۔ اسی طرح وادیِ تیہ میں اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے طویل عرصے تک رزق کا انتظام فرمایا اور انہیں اپنی قدرت کی بہت سی نشانیاں دکھائیں۔
یہ نعمتیں اس بات کا تقاضا کرتی تھیں کہ بنی اسرائیل اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے، اس کی اطاعت کرتے اور اس کے احکامات پر عمل کرتے۔
بنی اسرائیل کو فضیلت دینے کا مفہوم
Surah Baqarah Ayat 47-48 میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ انہوں نے بنی اسرائیل کو تمام جہان والوں پر فضیلت دی۔
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر “تمام جہان والوں” میں امتِ محمدیہ بھی شامل ہے تو پھر بنی اسرائیل کو تمام جہانوں پر فضیلت کیسے دی گئی؟
مفسرین نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ یہاں العالمین سے مراد حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے کے لوگ ہیں۔ اس زمانے میں امتِ محمدیہ موجود نہیں تھی۔ اس لیے اس آیت کا مطلب یہ نہیں کہ بنی اسرائیل کو امتِ محمدیہ پر فضیلت حاصل ہے۔
امتِ محمدیہ کو اللہ تعالیٰ نے خصوصی فضائل عطا فرمائے ہیں، اور نبی کریم حضرت محمد ﷺ کی امت کو بہترین امت قرار دیا گیا ہے۔
قیامت کے دن کی یاد دہانی
Surah Baqarah Ayat 47-48 کا دوسرا اہم مضمون قیامت کے دن سے ڈرانا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“اور ڈرو اس دن سے جس میں کوئی آدمی کسی کو فائدہ نہیں دے گا۔”
قیامت کا دن ایسا دن ہوگا جب انسان کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔ دنیا میں انسان ایک دوسرے کی مدد کر سکتا ہے، لیکن آخرت میں کوئی شخص کسی دوسرے کے اعمال کا بوجھ اپنے ذمہ نہیں لے سکے گا۔
ہر انسان کو اپنے ایمان اور اعمال کے مطابق جواب دینا ہوگا۔
فدیہ قبول نہیں ہوگا
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس دن کسی شخص سے فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا۔
دنیا میں اگر کسی شخص پر کوئی جرمانہ یا سزا ہو تو بعض حالات میں مال یا فدیہ دے کر اس سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے، لیکن قیامت کے دن ایسا نہیں ہوگا۔
اس دن دنیا کا مال و دولت کسی کام نہیں آئے گا۔ انسان صرف اپنے ایمان اور اعمال کے ساتھ حاضر ہوگا۔
قیامت کے دن سفارش کا معاملہ
Surah Baqarah Ayat 47-48 میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ اس دن ایسی سفارش فائدہ نہیں دے گی جو اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر ہو۔
قرآن و حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اذن سے اہلِ ایمان کے حق میں شفاعت ہوگی۔ نبی کریم ﷺ کو بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے شفاعت کا مقام عطا فرمایا جائے گا۔
اس لیے قیامت کے دن کی شفاعت کو دنیاوی سفارش کی طرح نہیں سمجھنا چاہیے۔ اصل اختیار اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہوگا اور کوئی سفارش بھی اس کی اجازت کے بغیر نہیں ہو سکتی۔
قیامت کے دن کوئی مدد نہیں ہوگی
اللہ تعالیٰ آخر میں فرماتے ہیں:
“اور نہ ان کی کوئی مدد کی جائے گی۔”
یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور کفر کی حالت میں دنیا سے جائیں گے، وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لیے کسی ایسی مدد کے مالک نہیں ہوں گے جو انہیں عذاب سے نجات دلا سکے۔
یہ آیت انسان کو اس بات کی طرف متوجہ کرتی ہے کہ آخرت کی کامیابی کے لیے دنیا ہی میں ایمان، نیک اعمال، توبہ اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت اختیار کرنی چاہیے۔
Surah Baqarah Ayat 47-48 – English Tafseer
Surah Baqarah Ayat 47-48 remind the Children of Israel of the blessings Allah granted them and warn them about the Day of Judgment.
In the preceding verses, different acts of disobedience and wrongdoing committed by the Children of Israel were mentioned, along with the consequences of their actions. Allah now reminds them once again of His blessings so that they understand that their punishment was not due to an arbitrary decision against them. Rather, their own disobedience and evil actions led them toward that outcome.
Allah’s Blessings Upon the Children of Israel
Allah reminds the Children of Israel to remember His favors upon them. Among these blessings was their deliverance from the oppression of Pharaoh.
Allah also provided for them during their journey and showed them many signs of His power. These blessings required them to be grateful, obedient, and committed to Allah’s commands.
Their Excellence Over the People of Their Time
In Surah Baqarah Ayat 47-48, Allah mentions that He gave the Children of Israel excellence over the people of their time.
The scholars of Tafseer explain that the reference to “the worlds” here relates to the people who existed during their particular time. It does not mean that the Children of Israel were superior to the Ummah of Prophet Muhammad ﷺ.
The Ummah of Muhammad ﷺ has been given its own special virtues and distinction.
The Warning of the Day of Judgment
Another major lesson of Surah Baqarah Ayat 47-48 is the warning about the Day of Judgment.
Allah explains that no person will be able to benefit another person on that Day by his own authority. Every individual will be accountable for his or her own faith and deeds.
The wealth and possessions of this world will not be able to purchase salvation. No ransom will be accepted from those who deserve punishment.
Intercession on the Day of Judgment
The verse also warns that intercession will not benefit a person unless it is according to Allah’s permission.
Islam teaches that intercession exists, but it occurs only by the permission and will of Allah. The ultimate authority belongs entirely to Allah.
The Prophet Muhammad ﷺ will be granted the مقام of intercession, and other forms of intercession are also established in Islamic teachings, but none of them can occur independently of Allah’s permission.
Important Lessons from Surah Baqarah Ayat 47-48
Surah Baqarah Ayat 47-48 provide several important lessons for every believer:
- We should remember and appreciate Allah’s blessings.
- Blessings should lead a person toward gratitude and obedience.
- A person’s actions have consequences.
- The Day of Judgment is a reality and every person will be accountable.
- Wealth cannot purchase salvation in the Hereafter.
- Intercession belongs to Allah’s permission and authority.
- A believer should prepare for the Hereafter through faith and righteous deeds.
- We should not depend merely on our status, family, wealth, or worldly position.
Conclusion – Surah Baqarah Ayat 47-48
The central message of Surah Baqarah Ayat 47-48 is that Allah’s blessings should never lead to arrogance or disobedience. Instead, they should make a person grateful and obedient to Allah.
These verses also remind us that the Day of Judgment will be completely different from worldly life. No person will be able to save another by his own power, worldly wealth will not serve as a ransom, and no intercession will benefit anyone except by Allah’s permission.
Therefore, every Muslim should prepare for the Hereafter through sincere faith, repentance, good deeds, and obedience to Allah and His Messenger ﷺ.
Quran.com – Surah Al-Baqarah Ayat 47
