Translation
Indeed, those who disbelieved and died while they were disbelievers—upon them is the curse of Allah, the angels, and all people.
They will remain therein forever. The punishment will not be lightened for them, nor will they be given respite.
Tafseer of the Verses
This Quran Tafseer explains the ultimate fate of those whose lives end in disbelief. Allah Almighty states that those who disbelieved and died as disbelievers are under the curse of Allah, the angels, and all people.
This also includes those who were previously disbelievers, then accepted faith, and later returned to disbelief. The warning applies to those who knowingly reject the truth and die in that state.
The meaning of curse is to be deprived and distanced from Allah’s mercy. The greatest form of this deprivation is to be prevented from entering Paradise and to remain in Hell forever.
In contrast, the greatest success is for the believers to be saved from Hell and admitted into Paradise forever.
The Greatest Success
Quran Tafseer also highlights the meaning of true success through the well-known incident of Hazrat Amir bin Fuhairah (RA). When he was martyred, he said that by the Lord of the Ka’bah, he had succeeded.
The greatest success is not worldly wealth, status, or temporary achievement. True success is to be saved from Hell and granted eternal entry into Paradise.
The Fate of Disbelievers
The Quran Tafseer of these verses makes it clear that those who die upon disbelief will remain in Hell forever. Their punishment will not be reduced, and they will not be given respite.
These verses remind believers about the importance of faith, steadfastness, and protecting oneself from an ending upon disbelief.
Ruling Regarding Cursing Others
An important lesson from this Quran Tafseer is that Muslims should be extremely careful with their words.
It is permissible to speak generally about wrongdoing, such as saying that Allah’s curse is upon liars or oppressors. However, specifically cursing an individual by name requires great caution.
The names of those disbelievers whose death upon disbelief is certain, such as Pharaoh, Abu Lahab, and Abu Jahl, may be mentioned in this context.
Protecting the Tongue
The teachings mentioned in this Quran Tafseer remind us that the tongue should be protected from unnecessary curses, insults, and harmful speech.
The Prophet Muhammad (peace and blessings be upon him) warned against excessive cursing and ingratitude. Therefore, a believer should think carefully before speaking and should avoid words that may harm others.
Lessons from the Verses
This Quran Tafseer teaches us several important lessons:
- We should remain steadfast upon faith.
- The final outcome of a person is extremely important.
- Dying upon disbelief leads to a severe punishment in the Hereafter.
- We should avoid cursing others without a valid reason.
- We should protect our tongues from harmful speech.
- Being deprived of Allah’s mercy is the greatest loss.
- Being saved from Hell and entering Paradise is the greatest success.
Final Dua
May Allah Almighty keep us firm upon faith, protect our tongues from unnecessary cursing and harmful speech, save us from Hellfire, and grant us eternal entry into Jannat-ul-Firdaws.
Ameen.
بے شک وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور وہ مر گئے اس حال میں کہ وہ کافر تھے، وہی لوگ ہیں کہ اللہ کی لعنت ہے ان پر اور فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی۔
وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، نہ ہلکا کیا جائے گا ان سے عذاب اور نہ انہیں مہلت دی جائے گی۔
آیت کی تفسیر
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا انجام بیان فرمایا ہے جن کا خاتمہ کفر پر ہوا۔ Quran Tafseer کے مطابق اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جن لوگوں نے کفر کیا اور ان کا خاتمہ کفر پر ہوا، یا وہ لوگ جو پہلے کافر تھے، پھر ایمان لائے اور پھر دوبارہ مرتد ہوگئے، چاہے وہ اہلِ کتاب ہوں یا کفار و مشرکین، اسی طرح منکرینِ نبوت اور منکرینِ زکوٰۃ، ان سب پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہوگی، فرشتوں کی اور تمام انسانوں کی لعنت ہوگی۔
یہاں تک کہ تمام لوگ کافروں پر لعنت کریں گے۔ مومنین دنیا اور آخرت دونوں میں، جبکہ کفار بھی آخرت میں ایک دوسرے پر لعنت کریں گے، جیسا کہ قرآن مجید میں متعدد بار مذکور ہے۔
پچھلے سبق میں گزر چکا ہے کہ Quran Tafseer میں لعنت کا معنی رحمت سے دور کر دینا بیان کیا گیا ہے۔ تو آیت کا مطلب ہوگا کہ اللہ تعالیٰ ان کو اپنی رحمت سے دور کریں گے اور فرشتے اور تمام لوگ بھی اللہ تعالیٰ سے دعا کریں گے کہ اے اللہ! کفار کو اپنی رحمت سے دور فرما۔
سب سے بڑی دوری یہ ہے کہ کفار کو جنت سے محروم کرکے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں داخل کیا جائے۔ اس کے مقابلے میں سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ مومنین کو جہنم سے بچا کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جنت میں داخل کیا جائے۔
سب سے بڑی کامیابی کیا ہے؟
احادیثِ مبارکہ میں ایک واقعہ مذکور ہے کہ حضرت عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ کو جب شہید کیا گیا تو انہوں نے مرتے وقت فرمایا:
“ربِ کعبہ کی قسم! میں کامیاب ہوگیا۔”
بعد میں وہ کافر جس نے حضرت عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ کو شہید کیا تھا، مسلمان ہوگیا۔ پھر اس نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ جب حضرت عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ نے مرتے وقت کہا تھا کہ اللہ کی قسم! میں کامیاب ہوگیا، تو میں بہت حیران ہوا کہ یہ کیسی کامیابی ہے جو مسلمانوں کو مرتے وقت ملتی ہے؟
تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ آدمی کو جہنم سے بچا کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جنت میں داخل کردیا جائے۔
کافروں کا آخرت میں انجام
Quran Tafseer کے مطابق اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ وہ کافر ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ کبھی ان کو جہنم کے عذاب سے چھٹکارا نہیں ملے گا، کبھی ان کے عذاب میں تخفیف نہیں کی جائے گی اور نہ ہی انہیں کوئی مہلت دی جائے گی۔
یہ آیات انسان کو اپنے انجام کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنے کی دعوت دیتی ہیں اور ایمان پر ثابت قدم رہنے کی اہمیت واضح کرتی ہیں۔
لعنت کرنے کے بارے میں اہم مسئلہ
Quran Tafseer کے اس سبق میں لعنت کے بارے میں ایک اہم مسئلہ بھی ذہن میں رکھنا چاہیے۔
عام طور پر یوں کہہ سکتے ہیں:
- جھوٹوں پر اللہ کی لعنت۔
- ظالموں پر اللہ کی لعنت ہو۔
- اللہ تعالیٰ ظالموں کو ہدایت دے یا ان سے باز پرس فرمائے۔
لیکن خاص طور پر کسی شخص کا نام لے کر لعنت کرنا جائز نہیں، خواہ وہ مومن ہو یا کافر۔ نام لے کر لعنت کرنا صرف ان کافروں پر جائز ہے جن کے بارے میں یقین ہو کہ ان کا خاتمہ کفر پر ہوا ہے، جیسے فرعون، ابو لہب اور ابو جہل وغیرہ۔
پچھلی آیات میں بھی اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں سخت وعید بیان فرمائی ہے جو حق اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہدایت کو چھپاتے ہیں۔ علم اور حق بات کو چھپانے کے بارے میں مزید تفصیل کے لیے ہماری یہ تحریر پڑھیں: [Hiding Knowledge in Islam – Quran 2:159-160]
لعنت کے الفاظ استعمال کرنے میں احتیاط
حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب کوئی بندہ لعنت کرتا ہے تو وہ لعنت آسمانوں کی طرف جاتی ہے۔ آسمانوں کے دروازے اس کے لیے بند کردیئے جاتے ہیں۔ پھر وہ زمین کی طرف اترتی ہے تو زمین کے دروازے بھی اس کے لیے بند کردیئے جاتے ہیں۔
پھر وہ ادھر ادھر اپنا راستہ تلاش کرتی ہے۔ جب اسے کوئی راستہ نہیں ملتا تو وہ اسی شخص کی طرف لوٹ جاتی ہے جس پر لعنت کی گئی ہے۔ اگر وہ آدمی اس لعنت کا اہل نہ ہو تو وہ لعنت دوبارہ اسی شخص کی طرف لوٹ جاتی ہے جس نے لعنت کی تھی۔
اسی طرح لعنت کے ہم معنی الفاظ، مثلاً “تو مردود ہے” یا “تجھ پر پھٹکار ہے”، ان الفاظ کا استعمال بھی اسی اصول کے مطابق جائز ہے جو اوپر بیان کیا گیا ہے۔
عورتوں کے لیے اہم نصیحت
عورتیں اس معاملے میں بہت بے احتیاطی کرتی ہیں۔ اسی وجہ سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے فرمایا کہ تم صدقہ کیا کرو، کیونکہ مجھے جہنم میں تمہاری تعداد زیادہ دکھلائی گئی ہے۔
عورتوں نے پوچھا کہ ایسا کیوں ہے؟
تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لعنت زیادہ کرتی ہو اور اپنے شوہر کی ناشکری کرتی ہو۔
اس حدیث میں ہمیں اپنی زبان کی حفاظت کرنے، دوسروں کو برا بھلا کہنے سے بچنے اور ناشکری سے محفوظ رہنے کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔
سبق اور نصیحت
Quran Tafseer کا یہ سبق ہمیں کئی اہم باتیں سکھاتا ہے:
- انسان کا اصل انجام اس کے خاتمے پر ہے۔
- ایمان پر ثابت قدم رہنا بہت ضروری ہے۔
- کفر پر مرنے والوں کے لیے آخرت میں سخت انجام ہے۔
- بلا وجہ کسی پر لعنت نہیں کرنی چاہیے۔
- اپنی زبان کو گالی، بددعا اور لعنت سے محفوظ رکھنا چاہیے۔
- اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری سب سے بڑی محرومی ہے۔
- جہنم سے نجات اور جنت کا حصول سب سے بڑی کامیابی ہے۔
دعا
اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایمان پر ثابت قدم رکھیں، دوسروں پر بلاوجہ لعنت کرنے سے محفوظ فرمائیں، ہماری زبانوں کی حفاظت فرمائیں اور ہمیں جہنم سے بچا کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جنت الفردوس میں داخل فرمائیں۔
آمین یا رب العالمین۔
