Introduction:
Surah Al-Baqarah Ayat 54–56 Tafseer explains two significant incidents from the history of Bani Israel. The first relates to their repentance after worshipping the calf, while the second concerns the seventy chiefs who demanded to see Allah openly. These verses highlight Allah’s justice, mercy, and the consequences of disobedience.
ترجمہ (Surah Al-Baqarah Ayat 54–56 Tafseer)
اور جب کہا موسیٰ نے اپنی قوم کو: اے میری قوم! بے شک تم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا بچھڑے کو معبود بنا کر، پس اپنے پیدا کرنے والے کے حضور توبہ کرو اور اپنے آپ کو قتل کرو۔ یہی تمہارے لیے تمہارے رب کے نزدیک بہتر ہے۔ پھر اللہ نے تمہاری توبہ قبول فرما لی۔ بے شک وہی بہت توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم فرمانے والا ہے۔
اور جب تم نے کہا: اے موسیٰ! ہم ہرگز تم پر ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ ہم اللہ کو کھلم کھلا دیکھ لیں۔ پس تمہیں بجلی نے آ پکڑا جبکہ تم دیکھ رہے تھے۔ پھر ہم نے تمہیں تمہارے مرنے کے بعد زندہ کر دیا تاکہ تم شکر ادا کرو۔
Surah Al-Baqarah Ayat 54–56 Tafseer
جب بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے کوہِ طور پر جانے کے بعد بچھڑے کی عبادت شروع کر دی تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے واپس آ کر اپنی قوم سے فرمایا کہ تم نے بچھڑے کو معبود بنا کر اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ سے توبہ کرو، یہی تمہارے لیے بہتر ہے۔
اس توبہ کی تفسیر میں مفسرین فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو حکم دیا کہ تم اپنے آپ کو قتل کرو، یا یہ کہ تم میں سے وہ شخص جس نے بچھڑے کی عبادت نہیں کی، اس شخص کو قتل کرے جس نے بچھڑے کی عبادت کی تھی۔ ظاہر ہے کہ یہ حکم بہت مشکل تھا، لیکن بنی اسرائیل نے اپنی جانوں پر توبہ کو ترجیح دی اور اپنے آپ کو قتل کرنا یا ایک دوسرے کو قتل کرنا شروع کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے فوراً ان کی توبہ قبول فرما لی۔
فائدہ:
یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ پہلی امتوں میں مرتد کی توبہ قتل کے بغیر قبول نہیں ہوتی تھی، لیکن امتِ محمدیہ کی فضیلت ہے کہ مرتد کو تین دن کی مہلت دی جاتی ہے۔ اگر وہ توبہ کر لے تو بہتر، ورنہ اسے قتل کر دیا جاتا ہے۔
Surah Al-Baqarah Ayat 54–56 Tafseer – The Seventy Chiefs of Bani Israel
اگلی آیات میں ایک دوسرے واقعے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ کتاب اپنی قوم کے سامنے پیش کی اور فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ کتاب ہے اور اس پر عمل کرنا تم پر لازم ہے، تو بنی اسرائیل نے کہا کہ اس پر عمل کرنا بہت مشکل ہے، آپ اللہ تعالیٰ سے عرض کریں کہ اس میں تخفیف کی جائے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ تم نے ایک طویل مدت آزادی سے گزاری ہے، اس لیے تمہیں یہ کتاب مشکل محسوس ہو رہی ہے۔ جب تم اس پر عمل شروع کرو گے تو آہستہ آہستہ اس کی عادت ہو جائے گی۔ جیسے جس شخص کو نماز کی عادت نہ ہو، اسے نماز مشکل لگتی ہے، لیکن جب وہ باقاعدگی سے نماز ادا کرنا شروع کر دیتا ہے تو پھر آسانی محسوس ہونے لگتی ہے۔
بنی اسرائیل نے ایک اور اعتراض کیا کہ ہم یہ تسلیم نہیں کرتے کہ یہ کتاب اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہے۔
اس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل میں سے ستر سردار منتخب کر کے کوہِ طور پر لے گئے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ ان لوگوں کو یقین دلایا جائے کہ یہ کتاب اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے نازل ہوئی ہے۔
مفسرین فرماتے ہیں کہ اسی وقت ایک بادل نمودار ہوا اور اس نے ان سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ پھر اس بادل سے آواز آئی:
“یہ میری کتاب ہے، تم اس پر عمل کرو۔”
جب بادل ختم ہوا تو ان ستر سرداروں نے کہا کہ ہم یہ نہیں مانتے کہ واقعی یہ اللہ تعالیٰ کی آواز تھی۔ ممکن ہے یہ کسی فرشتے، جن یا شیطان کی آواز ہو۔ آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ہمارے سامنے آ کر ہم سے بات کرے۔
ان کی اس گستاخی کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے بجلی کی کڑک کے ذریعے ان سب کو ہلاک کر دیا۔
پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے ان ستر سرداروں کو دوبارہ زندہ فرما دیا تاکہ وہ اپنی قوم کے پاس جا کر گواہی دیں کہ اللہ تعالیٰ نے کتاب کے بارے میں حکم دیا ہے کہ اس پر عمل کیا جائے۔
لیکن ان ستر سرداروں نے واپس جا کر کہا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ اگر ہو سکے تو اس کتاب پر عمل کر لینا اور اگر یہ تمہارے لیے مشکل ہو تو اسے چھوڑ دینا۔
اس طرح انہوں نے اللہ تعالیٰ کے کلام میں تبدیلی کر دی۔
Surah Al-Baqarah 49-50: The Miracle of Saving Bani Israel
2. Quran.com
Conclusion
Surah Al-Baqarah Ayat 54–56 Tafseer ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ شرک، نافرمانی اور اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کے بارے میں گستاخی سخت عذاب کا سبب بنتی ہے، جبکہ سچی توبہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور مغفرت کا ذریعہ بنتی ہے۔ یہ آیات اللہ تعالیٰ کی عدالت اور رحمت دونوں کو واضح کرتی ہیں۔
