Arabic Text (Surah Al-Baqarah 2:42-44)
وَلَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُوا الْحَقَّ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ ٤٢ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَارْكَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ ٤٣ أَتَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ أَنْفُسَكُمْ وَأَنْتُمْ تَتْلُونَ الْكِتَابَ ۚ أَفَلَا تَعْقِلُونَ ٤٤
ترجمہ
اور حق کو باطل کے ساتھ نہ ملاؤ اور حق کو نہ چھپاؤ حالانکہ تم جانتے ہو۔
اور نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔
کیا تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور اپنے آپ کو بھول جاتے ہو، حالانکہ تم کتاب پڑھتے ہو؟ کیا تم سمجھتے نہیں؟
Translation
Do not mix the truth with falsehood, nor conceal the truth while you know it.
Establish prayer, give Zakah, and bow along with those who bow.
Do you command people to righteousness and forget yourselves while you recite the Scripture? Will you not then understand?
تفسیر
پچھلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو اپنی نعمتیں یاد دلائیں اور ایمان لانے کا حکم دیا تھا۔ اس کی تفصیل یہاں ملاحظہ کریں:
Surah Baqarah Ayat 40-41 Tafsir Bani Isra
ان آیات میں مسلمانوں کو چند اہم احکام دیے گئے ہیں۔
پہلا حکم یہ ہے کہ حق کو باطل کے ساتھ نہ ملایا جائے اور حق کو نہ چھپایا جائے۔ کتمانِ حق کی دو صورتیں ہیں:
- حق بات کو بیان ہی نہ کیا جائے، جس سے آنے والی نسلیں حق سے ناواقف رہ جاتی ہیں۔
- حق کو باطل کے ساتھ اس طرح ملا دیا جائے کہ حق کو پہچاننا مشکل ہو جائے۔ اسی کو بدعت کہا جاتا ہے۔
بدعت ایک بڑا گناہ ہے کیونکہ اس سے دین کی اصل تعلیمات دھندلا جاتی ہیں اور حق کو پہچاننا مشکل ہو جاتا ہے۔
دوسرا حکم نماز قائم کرنے کا ہے، کیونکہ قیامت کے دن ایمان کے بعد سب سے پہلے نماز کے بارے میں سوال ہوگا۔
تیسرا حکم زکوٰۃ ادا کرنے کا ہے، کیونکہ زکوٰۃ مال کو پاک، بابرکت اور محفوظ بناتی ہے۔
چوتھا حکم باجماعت نماز ادا کرنے کا ہے، جس کی طرف “رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو” کے الفاظ اشارہ کرتے ہیں۔
اگلی آیت میں منافقین کی ایک علامت بیان کی گئی ہے کہ وہ دوسروں کو نیکی کا حکم دیتے ہیں لیکن خود اس پر عمل نہیں کرتے۔ اس آیت میں دعوتِ دین کا ایک اہم اصول بھی بیان ہوا ہے کہ دعوت اسی وقت مؤثر ہوتی ہے جب داعی خود اس پر عمل کرنے والا ہو۔ آج وعظ و نصیحت کے بے اثر ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم دوسروں کو تو نصیحت کرتے ہیں لیکن اپنی عملی زندگی میں اس پر عمل نہیں کرتے۔
Tafseer
These verses provide important guidance for believers.
First, Allah commands us not to mix truth with falsehood and not to conceal the truth. Concealing the truth can occur in two ways: either by not presenting it at all or by mixing it with falsehood until it becomes difficult to recognize.
Second, believers are instructed to establish Salah, which is among the first deeds to be accounted for after faith on the Day of Judgment.
Third, they are commanded to give Zakah, which purifies wealth and brings blessings.
Fourth, Allah encourages praying with the congregation through the command to bow with those who bow.
The following verse highlights a sign of hypocrisy: advising others to do good while neglecting oneself. It also teaches an important principle of Dawah—our words become more effective when we practice what we preach.
