Powerful Tauba of Hazrat Adam (A.S)
The Repentance of Hazrat Adam (AS)
Translation of the Verses
Powerful Tauba of Hazrat Adam (A.S). Then Adam received some words from his Lord, and Allah accepted his repentance. Surely, He is the Most Accepting of repentance, the Most Merciful. We said, “Go down from Paradise, all of you. Then whenever guidance comes to you from Me, whoever follows My guidance shall have no fear, nor shall they grieve. But those who disbelieve and deny Our signs will be the people of the Fire, remaining there forever.”
The Repentance of Hazrat Adam (AS)
When Hazrat Adam (AS) realized his mistake, he immediately sought forgiveness from Allah. Although he could have presented many excuses, he chose sincere repentance, and this is the sign of righteous people.
Allah taught Adam (AS) these words:
“Our Lord, we have wronged ourselves, and if You do not forgive us and have mercy upon us, we will surely be among the losers.”
When Adam (AS) recited these words sincerely, Allah immediately accepted his repentance.
Reward of Following Guidance
Allah then commanded Adam and Hawwa (AS) to descend to the earth and informed them that whenever divine guidance would come through prophets inviting towards Tawheed, whoever followed that guidance would enter Paradise and would have no fear or grief.
The Fate of Disbelievers
Those who reject Allah’s guidance and deny His signs will remain in Hell forever.
Difference Between Fear and Sorrow
Fear relates to anxiety about the future, while sorrow refers to regret over the past. The people of Paradise will have neither fear of the future nor regret over the past.
Explanation of “No Fear Shall Be Upon Them”
A question arises: On the Day of Judgment, even the Prophets will say “Rabbi Sallim” (O Allah, save us), so how can the verse say “No fear shall be upon them”?
The answer is that fear is of two types:
- Fear caused by one’s own wrongdoing, like a criminal fearing punishment.
- Fear based on recognizing Allah’s greatness and majesty.
The verse negates the first type of fear for the people of Paradise, meaning they will have no fear of punishment or loss
حضرت آدمؑ کی توبہ اور اللہ کی رحمت
ترجمہ آیات
پس حاصل کیے آدم نے اپنے رب سے چند کلمات، پھر اللہ نے ان کی توبہ قبول فرمائی۔ بے شک وہی بہت توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ ہم نے کہا: تم سب جنت سے اتر جاؤ، پھر اگر تمہارے پاس میری طرف سے ہدایت آئے تو جو میری ہدایت کی پیروی کرے گا اس پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوگا۔ اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا، وہی جہنمی ہیں اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
حضرت آدمؑ کی توبہ
جب آدم علیہ السلام کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو فوراً انہوں نے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگی۔ حالانکہ وہ بہت سے عذر پیش کر سکتے تھے لیکن انہوں نے یہی بہتر سمجھا کہ فوراً اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کی جائے اور یہی نیک لوگوں کی نشانی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آدم علیہ السلام نے چند کلمات حاصل کیے۔ وہ کلمات یہ تھے:
“رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ”
جب آدم علیہ السلام نے سچے دل سے یہ دعا پڑھی تو اللہ تعالیٰ نے فوراً ان کی توبہ قبول فرما لی۔
ہدایت کی پیروی کا اجر
پھر اللہ تعالیٰ نے آدم اور حوا علیہما السلام کو زمین پر جانے کا حکم دیا اور فرمایا کہ اگر تمہارے پاس یا تمہاری اولاد کے پاس میری طرف سے ہدایت آئے یعنی کوئی نبی توحید کی دعوت لے کر آئے تو جو اس کی پیروی کرے گا وہ جنت میں داخل ہوگا۔ ایسے لوگوں پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
کفار کا انجام
اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی ہدایت کا انکار کریں گے اور اس کی آیات کو جھٹلائیں گے وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں داخل ہوں گے۔
خوف اور حزن میں فرق
خوف اور حزن میں فرق یہ ہے کہ اگر مستقبل میں کسی چیز کا ڈر ہو تو اسے خوف کہتے ہیں، جبکہ ماضی کی کسی چیز پر افسوس ہو تو اسے حزن کہتے ہیں۔ جنت والوں کو نہ مستقبل کا کوئی خوف ہوگا اور نہ ماضی کی کسی چیز کا غم ہوگا۔
لا خوف علیہم کی وضاحت
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ قیامت کا دن اتنا ہولناک ہوگا کہ انبیاء کرام علیہم السلام بھی “رب سلم” کہتے ہوں گے، یعنی اے اللہ ہمیں جہنم کی آگ سے بچا، تو پھر “لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ” کیسے صحیح ہے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ خوف دو طرح کا ہوتا ہے:
- ایک وہ خوف جس کا سبب انسان کے اپنے اندر ہو، جیسے مجرم کا سزا سے ڈرنا۔
- دوسرا وہ خوف جس کا سبب اللہ تعالیٰ کی عظمت اور جلال ہو، جیسے نیک لوگوں کا اللہ تعالیٰ سے ڈرنا۔
آیت میں پہلے قسم کے خوف کی نفی کی گئی ہے، یعنی اہلِ جنت کو کسی سزا یا نقصان کا خوف نہیں ہوگا۔
اللہ تعالیٰ کی ہدایت پر عمل کرنا انسان کو دنیا و آخرت میں کامیابی دیتا ہے۔ اسی طرح ذوالحجہ کے پہلے 10 دنوں کی فضیلت بھی ہر مسلمان کے لیے بہت اہم ہے۔
