- By: hafiz
- Comments (0)
- May 29
حج کے موقع پر ایک اور اہم حقیقت
An Important Reality Observed During Hajj
حج کے موقع پر ایک اور بات بہت واضح مشاہدے میں آتی ہے۔۔۔
جس انسان کے عام زندگی میں جس طرح کے اخلاق اور رویے ہوتے ہیں، وہی اس موقع پر کھل کر سامنے آرہے ہوتے ہیں۔
During Hajj, another reality becomes very clear:
The kind of morals and behavior a person carries in everyday life become openly visible during this sacred journey.
حج کی سختیاں اور مشقتیں ہمیں پریشان نہیں کرتی ہیں، ہماری عادات، اخلاق اور رویے حج کے موقع پر بالکل واضح ہو کر سامنے آجاتے ہیں، اور یہ وہ معاملہ ہے جس کی وجہ سے انسان دوسروں کے سامنے نا چاہتے ہوئے بھی اور کوشش کے باوجود بالکل برہنہ ہوجاتا ہے۔
The hardships of Hajj do not expose us — our habits, manners, and attitudes do.
During Hajj, a person’s true personality becomes visible in front of everyone despite all attempts to hide it.
قطار توڑنا اور دوسروں کا حق مارنا
Breaking Queues and Violating Others’ Rights
سر منڈوانے کے لیے حجاموں کی دوکانوں پر دس ذوالحجہ کو شدید رش ہوتا ہے۔ لوگ قطار میں کھڑے اپنی باری کا انتظار کررہے ہیں۔ ایک صاحب آتے ہیں، دو لوگوں کو باتوں میں لگاتے ہیں اور خاموشی سے قطار کے بیچ میں گھس جاتے ہیں۔
On the 10th of Dhul Hijjah, barber shops become overcrowded for head shaving. People stand patiently in queues waiting for their turn. Then someone arrives, distracts two people with conversation, and silently cuts into the middle of the line.
لندن سے آئے ہوئے ایک نوجوان حاجی ان کی اس حرکت پر گرفت کرتے ہیں جو کہ بہت دیر سے اپنی جگہ کھڑے ہوئے تھے، جس پر وہ صاحب بجائے معذرت خواہ ہونے کے، پوری سینہ زوری کے ساتھ اونچی آواز میں بولتے ہوئے کھڑے رہتے ہیں اور پہلے اپنی باری پکڑ لیتے ہیں۔
A young pilgrim from London objects because he had been waiting for a long time. Instead of apologizing, the man becomes aggressive, raises his voice, and forcefully takes his turn first.
یہ وہ صاحب ہیں جن کا عام زندگی میں بھی سو فیصد یہی رویہ ہوگا، یعنی جہاں موقع ملے، بے ایمانی سے کسی اور کا حق مار لینا۔
This clearly reflects the same behavior they likely practice in everyday life — taking away others’ rights dishonestly whenever they get the opportunity.
رمی جمرات اور عوامی بدنظمی
Chaos During Rami al-Jamarat
رمی جمرات کے لیے لوگ جارہے ہیں، مقامی پولیس والے بار بار ایک قطار میں آنے کا کہہ رہے ہیں، لیکن بہت سے لوگ دوسروں کو دباتے ہوئے، اپنے ہاتھ اور جسم سے لوگوں کو روکتے ہوئے پیچھے سے آگے آکر ان سے پہلے بس میں سوار ہوجاتے ہیں۔
People heading for Rami al-Jamarat are repeatedly instructed by police to stay in line. Yet many push others aside, block people with their bodies, and rush ahead to board buses first.
یہ بھی عام زندگی میں سو فیصد لوگوں کا حق مارتے ہوں گے، اور وہی رویہ ان کی شخصیت کو ہزاروں لوگوں کے سامنے ننگا کررہا ہے۔ بس انہیں اس بات کا شعور نہیں ہے۔
Such people most likely violate others’ rights in daily life too, and during Hajj these actions expose their true personalities in front of thousands.
پرائیویٹ سہولتوں کا ناجائز استعمال
Misusing Private Facilities
ہمارے گروپ نے ہوٹل سے رمی کی شٹل تک کے لیے گالف کارٹ سروس رکھی ہوئی ہے جو ظاہر ہے کہ ان لوگوں کے لیے ہے جو اس گروپ کا حصہ ہیں۔
Our group had arranged a golf cart service from the hotel to the shuttle point specifically for members of our group.
برابر والی بلڈنگ سے ایک صاحب دو خواتین کے ساتھ نکلتے ہیں، تینوں ٹہلتے ہوئے ہمارے ہوٹل سے تھوڑا سا آگے جاتے ہیں، کارٹ جو ہماری طرف آرہی تھی، اسے پہلے روک کر اس میں بیٹھ جاتے ہیں۔
A man with two women from another building walks ahead of our hotel and stops the cart before it reaches us, then all three sit inside.
اب یہاں انہوں نے تین افراد کی حق تلفی کردی اور بالکل ڈھیٹ بن کر بیٹھے رہے۔
In doing so, they deprived three rightful people of their seats and sat there shamelessly.
اترتے ہوئے میں نے کہا کہ بھائی آپ کی ڈاڑھی، ٹوپی، اور حج آپ کو نہیں بچا سکے گا کیونکہ آپ نے تین کبیرہ گناہ کردیئے ہیں اور حقوق العباد سے متعلق کردیئے ہیں۔
When they got off, I told him: “Your beard, cap, and Hajj will not save you because you committed major sins involving the rights of other people.”
کھانے میں لالچ اور بے صبری
Greed and Impatience During Meals
کھانے کا وقت ہے، کھانا لگ چکا ہے، اب کئی خواتین و حضرات کے کھانے میں لالچ اور ندیدے پن کے نظارے دیکھنے کو ملتے ہیں۔
At meal times, scenes of greed and impatience become visible among many men and women.
بے صبری، پلیٹ بھر لینا، دوسروں کا بالکل خیال نہ کرنا ہر کھانے کے وقت کچھ لوگوں میں نظر آرہا ہوتا ہے۔
People overload their plates, show impatience, and completely ignore the needs of others.
پھر پیکج میں جوسز، آئس کریم، پھل کولڈ ڈرنک، چائے، کافی وغیرہ چوبیس گھنٹے موجود ہے۔ لیکن گودیں بھر بھر کے لے جانا، اپنے دوست احباب کو باہر سے بلا کر انہیں بھی بٹھا لینا۔
Even though drinks, fruits, tea, coffee, and snacks are available 24/7, some still hoard excessive amounts and even invite outsiders to benefit from facilities not meant for them.
صفائی اور شہری ذمہ داری
Cleanliness and Civic Responsibility
کوئی چیز کھائی اور ریپر، تھیلی، پیکٹ، ڈبہ وہیں پھینک دیا۔ سگریٹ پیا اور وہیں پھینک دیا۔ گٹکا کھایا اور نظر بچا کر وہیں تھوک دیا۔
People throw wrappers, bottles, cigarette butts, and trash wherever they stand.
واش روم گئے اور بغیر فلیش کیے، بغیر کموڈ سیٹ صاف کیے باہر آگئے۔ پانی کی بوتلیں لی، پی کر وہیں پھینک دی۔
Some leave washrooms dirty without flushing or cleaning after themselves and throw empty water bottles on the ground.
عادات انسان کی اصل شخصیت بن جاتی ہیں
Habits Eventually Become Personality
اصل میں انسان کی نفسیات یہ ہوتی ہے کہ جو عادت یا رویہ آپ کے تحت الشعور یا لاشعور کا حصہ بن جاتا ہے، اب وہ مستقل آپ کی عادات، اخلاق اور رویوں میں جھلکتا ہے۔
Human psychology works in a way that repeated habits become part of the subconscious mind and eventually appear permanently in one’s behavior and character.
آپ اس سے خود کو روک نہیں سکتے۔
At that point, it becomes difficult to stop yourself from behaving that way.
اخلاقی تربیت کی ضرورت
The Urgent Need for Moral Training
اور ایک بار پھر یہ بات آشکار ہوتی نظر آتی ہے کہ ہمارے گھروں اور تعلیمی اداروں سے کردار اور اخلاق سازی مکمل طور پر رخصت ہوچکی ہے۔
Once again, it becomes obvious that character building and moral education have disappeared from our homes and educational institutions.
والدین اور بڑوں کی تربیت کے لیے خصوصی انتظام اور اہتمام کرنے کی ضرورت ہے۔
Special focus is needed for the training of parents and elders as well.
مساجد اور علماء کا کردار
The Role of Mosques and Scholars
مساجد میں علماء کرام کو مستقل معاشرتی اخلاقیات کو اپنا موضوع بنانا چاہیے۔
Scholars in mosques should consistently focus on social ethics in their sermons.
اسی طرح قطار کیسے بنتی ہے اور دین اسلام بارے میں کیا کہتا ہے۔
کھانا کیسے لیا جائے اور کیسے کھایا جائے۔
موٹرسائیکل اور گاڑی کی پارکنگ دین اسلام کی روشنی میں۔
Topics should include:
- How to stand in queues
- Proper eating manners
- Parking ethics
- Traffic manners in Islam
First 10 Days of Dhul Hijjah
Conclusion
یہ باتیں میں پہلے بھی کئی بار لکھ چکا ہوں اور اپنی ورکشاپس میں بھی بات کرتا ہوں لیکن حج کے موقع پر ہونے والے مشاہدات نے دل توڑ کر رکھ دیا ہے کہ ہم کس قسم کے لوگ بن گئے ہیں۔
I have spoken about these matters many times before, but the observations during Hajj were heartbreaking and revealed what kind of people we have become.
اللہ تعالٰی ہمیں معاف کردے اور ہمارے حج کو قبول فرما لے۔ آمین۔
May Allah forgive us and accept our Hajj. Ameen.
