Introduction
Surah Al-Baqarah Ayat 172-173 Tafseer explains the importance of eating lawful and pure food, expressing gratitude to Allah, and avoiding prohibited foods. These verses teach Muslims that the blessings of Allah should be used in obedience to Him. They also explain the exceptions allowed when a person faces genuine necessity.
If you want to understand the Quran more deeply, explore our Online Quran Tafseer Academy to learn Quran translation and Tafseer in a structured way.
Translation of Surah Al-Baqarah Ayat 172
O you who believe! Eat from the good and pure things that We have provided for you, and be grateful to Allah if it is Him you worship.
Tafseer of Surah Al-Baqarah Ayat 172
In Surah Al-Baqarah Ayat 172-173 Tafseer, Allah commands the believers to eat from the pure provisions He has granted them and to express gratitude for His blessings. True worship includes obedience, thankfulness, and using Allah’s blessings in ways that please Him.
Allah has blessed us with eyes, ears, feet, and other abilities. We should use these blessings for good purposes. The eyes should be used to read the Quran and look at what is lawful. The ears should be used to listen to the Quran and beneficial words. Our feet should take us towards the mosque, prayer, and other righteous activities.
Using these blessings for sinful actions is a form of ingratitude. Therefore, the message of Surah Al-Baqarah Ayat 172-173 Tafseer is that gratitude must be reflected in our actions, not merely in our words.
The Importance of Halal Food in Islam
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah ﷺ said that Allah is Good and accepts only what is good. This teaching is recorded in Sahih Muslim (1015).
The Prophet ﷺ also explained that Allah commanded the messengers to eat what is lawful and pure and to perform righteous deeds. Believers are likewise commanded to consume lawful provisions and do good deeds.
The hadith describes a traveler who raises his hands and calls upon Allah, saying, “My Lord, my Lord,” while his food, drink, and clothing are unlawful. The Prophet ﷺ explained how could his supplication be answered under such circumstances?
This hadith highlights the importance of halal earnings and lawful food. Muslims should ensure that their income, food, and daily dealings comply with Islamic teachings.
Translation of Surah Al-Baqarah Ayat 173
He has only forbidden you carrion, blood, the flesh of swine, and that which has been dedicated to other than Allah. But whoever is compelled by necessity, without desiring it or exceeding the limit, there is no sin upon him. Indeed, Allah is Most Forgiving, Most Merciful.
Tafseer of Surah Al-Baqarah Ayat 173
Surah Al-Baqarah Ayat 172-173 Tafseer identifies four categories of prohibited food mentioned in this verse.
- Carrion: An animal that dies without being slaughtered in the prescribed manner, subject to the exceptions established in Islamic law.
- Blood: The prohibited blood referred to in Islamic teachings, with flowing blood specifically mentioned in other Quranic passages.
- Pork: The flesh of swine is prohibited for Muslims.
- Animals dedicated to other than Allah: Animals slaughtered in the name of someone other than Allah are prohibited.
These commandments guide Muslims towards lawful eating and obedience to Allah.
The Exception in Cases of Necessity
Islam is a religion of mercy and recognizes genuine necessity. If a person faces a situation in which lawful food is unavailable and eating prohibited food is necessary to preserve life, an exception applies.
However, the person must not consume it out of desire or exceed the amount necessary to address the emergency. The concession is limited to what is reasonably required by the necessity, according to Islamic teachings.
The conclusion of Surah Al-Baqarah Ayat 172-173 Tafseer reminds believers that Allah is Most Forgiving and Most Merciful.
Lessons from Surah Al-Baqarah Ayat 172-173
- Eat lawful and pure food.
- Thank Allah for His blessings through words and actions.
- Use your physical abilities for righteous purposes.
- Avoid unlawful earnings and prohibited food.
- Perform good deeds alongside sincere worship.
- Remember that Islamic law recognizes genuine necessity.
- Never exceed the limits of a concession granted in an emergency.
Conclusion
Surah Al-Baqarah Ayat 172-173 Tafseer teaches that halal food, gratitude, and obedience are closely connected. Muslims should appreciate Allah’s blessings by using them in lawful and beneficial ways. These verses also demonstrate Allah’s mercy by allowing a limited concession in cases of genuine necessity.
May Allah grant us lawful sustenance, accept our good deeds, and enable us to follow the teachings of the Quran. Ameen.
سورۃ البقرہ آیت 172-173 کی تفسیر: حلال رزق اور اللہ تعالیٰ کا شکر
تعارف
Surah Al-Baqarah Ayat 172-173 Tafseer ہمیں حلال اور پاکیزہ رزق کھانے، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے اور حرام چیزوں سے بچنے کی تعلیم دیتی ہے۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اس کے عطا کردہ پاکیزہ رزق سے فائدہ اٹھائیں اور اس کی فرمانبرداری کریں۔ ساتھ ہی مجبوری کی حالت میں حرام چیز کھانے کی محدود اجازت بھی بیان فرمائی گئی ہے۔
سورۃ البقرہ آیت 172 کا ترجمہ
اے ایمان والو! ان پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ جو ہم نے تمہیں رزق کے طور پر عطا کی ہیں اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو، اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو۔
سورۃ البقرہ آیت 172 کی تفسیر
Surah Al-Baqarah Ayat 172-173 Tafseer میں اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو حکم دیتے ہیں کہ وہ پاکیزہ رزق کھائیں اور اس کی نعمتوں کا شکر ادا کریں۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت کا تقاضا ہے کہ انسان اس کے احکامات پر عمل کرے اور اس کی عطا کردہ نعمتوں کو درست طریقے سے استعمال کرے۔
اللہ تعالیٰ نے ہمیں آنکھیں، کان، ہاتھ، پاؤں اور بے شمار دوسری نعمتیں عطا فرمائی ہیں۔ ان نعمتوں کا شکر صرف زبان سے ادا کرنا کافی نہیں، بلکہ عملی طور پر بھی ان کا صحیح استعمال ضروری ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ہمیں آنکھیں عطا کی ہیں تاکہ ہم قرآن مجید پڑھیں اور جائز چیزوں کو دیکھیں۔ اگر ہم انہی آنکھوں کو ناجائز کاموں میں استعمال کریں تو یہ ناشکری ہے۔
اسی طرح کان ہمیں اس لیے دیے گئے ہیں کہ ہم قرآن مجید سنیں، علم حاصل کریں اور اچھی باتوں سے فائدہ اٹھائیں۔ ان نعمتوں کو گناہ کے کاموں میں استعمال کرنے سے بچنا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ نے ہمیں پاؤں عطا کیے تاکہ ہم مسجد جائیں، نماز ادا کریں اور نیک کاموں میں حصہ لیں۔ اگر ہم انہی پاؤں سے گناہ کے کاموں کی طرف جائیں تو یہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری ہے۔
لہٰذا Surah Al-Baqarah Ayat 172-173 Tafseer کا ایک اہم سبق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ہماری زندگی اور اعمال میں بھی نظر آنا چاہیے۔
اسلام میں حلال رزق کی اہمیت
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ پاک ہیں اور پاکیزہ چیز ہی قبول فرماتے ہیں۔ یہ حدیث صحیح مسلم، حدیث نمبر 1015 میں موجود ہے۔
اس حدیث میں حلال کمائی اور پاکیزہ رزق کی اہمیت واضح کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرام علیہم السلام کو بھی پاکیزہ چیزیں کھانے اور نیک اعمال کرنے کا حکم دیا اور اہل ایمان کو بھی یہی تعلیم دی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے مسافر کا ذکر فرمایا جو سفر کی مشقت سے پریشان ہے، اس کے بال بکھرے ہوئے ہیں اور وہ آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر دعا کرتا ہے: اے میرے رب! اے میرے رب! لیکن اس کا کھانا، پینا اور لباس حرام ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حرام کمائی اور حرام غذا انسان کی دعا کی قبولیت میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔ اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ اپنی کمائی، کھانے پینے اور روزمرہ معاملات میں حلال و حرام کا خیال رکھے۔
Surah Al-Baqarah Ayat 172-173 Tafseer ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ نیک اعمال کے ساتھ پاکیزہ رزق اختیار کرنا بھی دینی زندگی کا اہم حصہ ہے۔
سورۃ البقرہ آیت 173 کا ترجمہ
اس نے تم پر صرف مردار، خون، خنزیر کا گوشت اور وہ جانور حرام کیے ہیں جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا گیا ہو۔ پھر جو شخص مجبور ہو جائے، نہ وہ خواہش رکھنے والا ہو اور نہ حد سے بڑھنے والا، تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔ بے شک اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والے، نہایت رحم کرنے والے ہیں۔
سورۃ البقرہ آیت 173 کی تفسیر
Surah Al-Baqarah Ayat 172-173 Tafseer کے مطابق اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے چار قسم کی حرام چیزوں کا ذکر فرمایا ہے۔
1. مردار
مردار اس جانور کو کہتے ہیں جو شرعی طریقے کے مطابق ذبح کیے بغیر مر جائے۔ اسلامی احکام میں اس کی بعض مخصوص صورتوں کے استثنا بھی موجود ہیں۔
2. خون
اس آیت میں خون کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ قرآن مجید کے دوسرے مقامات پر بہنے والے خون کا بھی ذکر آیا ہے۔
3. خنزیر کا گوشت
خنزیر کا گوشت مسلمانوں کے لیے حرام ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ کھانے پینے میں اللہ تعالیٰ کے احکامات کی پابندی کریں۔
4. غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا گیا جانور
وہ جانور جسے اللہ تعالیٰ کے بجائے کسی اور کے نام پر ذبح کیا جائے، اس آیت میں ممنوع قرار دیا گیا ہے۔
ان احکامات کا مقصد مسلمانوں کو پاکیزہ غذا اختیار کرنے اور اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کرنے کی تعلیم دینا ہے۔
مجبوری کی حالت میں حرام کھانے کی اجازت
اسلام ایک دین فطرت اور دین رحمت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی حقیقی مجبوری کو بھی ملحوظ رکھا ہے۔
اگر کسی شخص کو ایسی حالت کا سامنا ہو کہ اسے حلال کھانا دستیاب نہ ہو اور کچھ نہ کھانے کی صورت میں جان جانے یا شدید نقصان کا خطرہ ہو تو ضرورت کے مطابق حرام چیز کھانے کی اجازت ہے۔
لیکن اس اجازت کی دو اہم شرطیں ہیں۔ پہلی یہ کہ انسان حرام چیز کو دل سے پسند کرتے ہوئے یا محض خواہش کی بنا پر نہ کھائے۔ دوسری یہ کہ ضرورت سے زیادہ نہ کھائے، بلکہ صرف اتنی مقدار استعمال کرے جس سے مجبوری دور ہو سکے۔
یہ اجازت صرف حقیقی ضرورت کی حالت میں ہے۔ اس سے عام حالات میں حرام چیزوں کو جائز سمجھنے کی اجازت نہیں ملتی۔
Surah Al-Baqarah Ayat 172-173 Tafseer کے آخر میں اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور رحمت کا ذکر ہمیں امید دلاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی حقیقی مجبوریوں کو جانتا ہے اور وہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔
سورۃ البقرہ آیت 172-173 سے حاصل ہونے والے اسباق
- حلال اور پاکیزہ رزق اختیار کرنا چاہیے۔
- اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر زبان اور عمل دونوں سے ادا کرنا چاہیے۔
- اپنی صلاحیتوں اور جسمانی اعضا کو نیک کاموں میں استعمال کرنا چاہیے۔
- حرام کمائی اور ممنوع غذا سے بچنا چاہیے۔
- عبادت کے ساتھ نیک اعمال بھی ضروری ہیں۔
- حقیقی مجبوری میں شریعت کی دی ہوئی رعایت سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔
- مجبوری کی اجازت میں بھی حد سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے۔
خلاصہ
Surah Al-Baqarah Ayat 172-173 Tafseer سے معلوم ہوتا ہے کہ حلال رزق، اللہ تعالیٰ کا شکر اور اس کی فرمانبرداری ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ ایک مسلمان کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کی قدر کرے، پاکیزہ غذا اختیار کرے اور اپنی زندگی کو قرآن مجید کی تعلیمات کے مطابق گزارے۔
ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی رحمت بھی نمایاں ہوتی ہے کہ حقیقی مجبوری کے وقت انسان کو ضرورت کے مطابق رعایت دی گئی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حلال رزق عطا فرمائے، اپنی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کی توفیق دے اور قرآن مجید کی تعلیمات پر عمل کرنے والا بنائے۔ آمین۔
