Introduction
Baqarah 74-75 Tafseer teaches a powerful lesson about the consequences of ignoring Allah’s signs. These verses describe how the hearts of Bani Israel became harder than stones despite witnessing countless miracles. Baqarah 74-75 Tafseer also warns against altering the words of Allah and reminds believers to remain sincere and obedient.
آیات کا ترجمہ (Urdu Translation)
پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہوگئے، پس وہ پتھروں کی طرح بلکہ ان سے بھی زیادہ سخت ہوگئے۔ بے شک بعض پتھروں سے نہریں جاری ہوجاتی ہیں، بعض پھٹ جاتے ہیں اور ان سے پانی نکل آتا ہے، اور بعض اللہ کے خوف سے گر پڑتے ہیں۔ اور اللہ تمہارے اعمال سے غافل نہیں۔
کیا تم یہ امید رکھتے ہو کہ وہ تمہاری بات مان کر ایمان لے آئیں گے؟ حالانکہ ان میں ایک گروہ ایسا تھا جو اللہ کا کلام سنتا، پھر سمجھ لینے کے بعد جان بوجھ کر اسے بدل دیتا تھا۔
Baqarah 74-75 Tafseer in Urdu
ان آیات میں اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی ناشکری اور سخت دلی پر تنبیہ فرما رہے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے انہیں بے شمار معجزات دکھائے، جیسے:
- من و سلویٰ کا نزول
- سمندر کا راستہ بن جانا
- فرعون سے نجات
- بادلوں کا سایہ
یہ تمام نشانیاں دلوں کو نرم کرنے کے لیے کافی تھیں، لیکن اس کے باوجود ان کے دل پتھروں سے بھی زیادہ سخت ہوگئے۔
Baqarah 74-75 Tafseer ہمیں بتاتی ہے کہ بعض پتھروں سے چشمے پھوٹ نکلتے ہیں، بعض پھٹ کر پانی نکالتے ہیں، اور بعض اللہ کے خوف سے گر پڑتے ہیں، مگر بعض انسان اللہ کی نشانیوں کے باوجود بھی ہدایت قبول نہیں کرتے۔
Stones and the Fear of Allah
بعض لوگ سوال کرتے ہیں کہ پتھر اللہ سے کیسے ڈرتے ہیں جبکہ ان میں عقل نہیں ہوتی؟
علمائے کرام فرماتے ہیں کہ خوف کے لیے صرف عقل ضروری نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ جس مخلوق کو چاہے احساس عطا فرما دیتا ہے۔
اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ:
“میں اس پتھر کو پہچانتا ہوں جو نبوت سے پہلے مجھے سلام کیا کرتا تھا۔”
اسی طرح متعدد مواقع پر درخت آپ ﷺ کے حکم سے اپنی جگہ چھوڑ کر آپ کے پاس آگئے۔
یہ تمام واقعات اس بات کی دلیل ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق اپنے رب کے حکم کی اطاعت کرتی ہے۔
Baqarah 74-75 Tafseer – Changing Allah’s Words
ان آیات میں یہود کی ایک بڑی برائی بھی بیان کی گئی ہے۔
وہ اللہ تعالیٰ کا کلام سنتے تھے، اسے سمجھتے بھی تھے، مگر دنیاوی مفادات اور مال و دولت کی خاطر اس میں تبدیلی کر دیتے تھے۔
انہوں نے تورات میں تحریف کی اور اللہ کے احکام کو اپنی خواہشات کے مطابق بدلنے کی کوشش کی۔
Baqarah 74-75 Tafseer ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اللہ کے دین میں اپنی مرضی سے تبدیلی کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔
H2
Lessons from Baqarah 74-75 Tafseer
ان آیات سے ہمیں یہ اہم اسباق ملتے ہیں:
- اللہ کی نشانیوں پر غور کرنا چاہیے۔
- دل کو نرم رکھنے کے لیے قرآن سے تعلق مضبوط ہونا چاہیے۔
- دنیا کی خاطر دین میں تبدیلی نہیں کرنی چاہیے۔
- اللہ ہر عمل کو دیکھ رہا ہے۔
- ایمان اخلاص کے ساتھ قبول کرنا چاہیے۔
- اللہ کے کلام میں تحریف بہت بڑا جرم ہے۔
- ہدایت صرف اسی کو ملتی ہے جو سچائی کو قبول کرے
اس واقعے کی مزید تفصیل کے لیے ہماری پوسٹ Surah Baqarah 72-73 Tafseer بھی ضرور پڑھیں
Conclusion
Baqarah 74-75 Tafseer ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بے شمار نشانیاں دیکھنے کے باوجود اگر انسان ہدایت قبول نہ کرے تو اس کا دل سخت ہوجاتا ہے۔ ایک مومن کو چاہیے کہ وہ قرآن پر کامل ایمان رکھے، اللہ کے احکام کو بغیر تبدیلی قبول کرے، اور دنیاوی فائدے کے لیے دین میں کبھی ردوبدل نہ کرے۔
What is the main message of Baqarah 74-75 Tafseer?
The main message of Baqarah 74-75 Tafseer is that ignoring Allah’s signs hardens the heart, while changing Allah’s words for worldly benefit is a serious sin.
Why are stones mentioned in these verses?
The stones are mentioned to show that even stones respond to Allah’s command, while some human hearts become even harder.
What lesson should Muslims learn?
Muslims should obey Allah sincerely, protect the Qur’an and Sunnah, and never change religious teachings for personal gain.
