Surah Baqarah Ayat 128-129
Surah Baqarah Ayat 128 – English Translation
“Our Lord, make us both submissive to You, and make from our descendants a nation that is submissive to You. Show us our ways of worship and accept our repentance. Surely, You are the One Who accepts repentance, the Most Merciful.”
Surah Baqarah Ayat 128 – Urdu Translation
اے ہمارے رب! بنا دیجیے ہم دونوں کو اپنا تابعدار اور ہماری اولاد سے ایک امت پیدا کیجیے جو آپ کی تابعدار ہو، اور ہمیں ہماری عبادت کے طریقے سکھائیے اور ہماری توبہ قبول فرمائیے۔ بے شک آپ ہی توبہ قبول کرنے والے، نہایت رحم فرمانے والے ہیں۔
Surah Baqarah Ayat 129 – English Translation
“Our Lord, send among them a Messenger from among themselves who will recite Your verses to them, teach them the Book and wisdom, and purify them. Surely, You are the Almighty, the All-Wise.”
Surah Baqarah Ayat 129 – Urdu Translation
اے ہمارے رب! ان میں انہی میں سے ایک رسول بھیج دیجیے جو ان کے سامنے آپ کی آیات تلاوت کرے، انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور انہیں پاک کرے۔ بے شک آپ ہی غالب، حکمت والے ہیں۔
Surah Baqarah Ayat 128-129 Tafseer
The Dua of Prophet Ibrahim (AS) and Prophet Ismail (AS)
جب حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام بیت اللہ کی تعمیر سے فارغ ہوگئے تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور کئی دعائیں مانگیں۔ Surah Baqarah Ayat 128-129 میں ان دعاؤں کا خوبصورت ذکر موجود ہے۔
سب سے پہلے انہوں نے دعا کی کہ اے ہمارے رب! ہمیں اپنا فرمانبردار اور تابعدار بنا دے اور ہماری اولاد میں سے بھی ایسی امت پیدا فرما جو تیری فرمانبردار ہو۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام خود اللہ تعالیٰ کے نبی اور فرمانبردار بندے تھے، لیکن اس کے باوجود انہوں نے مزید اطاعت اور فرمانبرداری کی دعا کی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان جتنا اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرتا ہے اور جتنا اللہ کے قریب ہوتا ہے، اتنی ہی اس کے دل میں اللہ کے مزید قریب ہونے کی خواہش بڑھتی جاتی ہے۔
Learning the Ways of Worship
Surah Baqarah Ayat 128-129 میں دوسری اہم دعا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں عبادت کے طریقے سکھائے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ دعا اس لیے مانگی کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے بیت اللہ تعمیر کیا تھا۔ اب اس گھر کی آبادی عبادت کے ذریعے ہونی تھی، اس لیے انہوں نے اللہ تعالیٰ سے درخواست کی کہ انہیں عبادت کے درست طریقے سکھائے جائیں تاکہ وہ اپنی طرف سے طریقے ایجاد کرنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق عبادت کریں۔
یہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ عبادت اپنی مرضی سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق کرنی چاہیے۔
Asking Allah to Accept Repentance
اس کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے دعا کی:
“اے ہمارے رب! ہماری توبہ قبول فرما، بے شک تو ہی توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔”
یہ دعا ہمیں سکھاتی ہے کہ انسان کو ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا چاہیے اور اپنی غلطیوں پر توبہ کرتے رہنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرنے والا اور ان پر بے حد رحم فرمانے والا ہے۔
The Dua for a Messenger
Surah Baqarah Ayat 128-129 میں ایک نہایت اہم دعا یہ بھی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ مکہ مکرمہ میں آباد ہونے والی ان کی اولاد میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا جائے۔
وہ رسول اللہ تعالیٰ کی آیات لوگوں کے سامنے تلاوت کرے، انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کا تزکیہ کرے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن مجید کی آیات کی تلاوت خود ایک مستقل مقصد اور باعثِ اجر عمل ہے۔ احادیث میں قرآن کی تلاوت کی بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے، اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ قرآن مجید کو صرف سمجھ کر پڑھنا فائدہ مند ہے اور بغیر سمجھے پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں۔
Importance of Learning the Quran from a Teacher
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی کہ آنے والا رسول لوگوں کو کتاب کی تعلیم دے۔
یہاں ایک اہم بات قابلِ غور ہے کہ قرآن مجید عربی زبان میں نازل ہوا اور ابتدائی مخاطبین بھی عرب تھے، اس لیے انہیں الفاظ کا ترجمہ سمجھنے میں بنیادی طور پر دشواری نہیں تھی۔ اس کے باوجود کتاب کی تعلیم کے لیے رسول کی ضرورت بیان کی گئی۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف ترجمہ پڑھ لینا قرآن کو مکمل طور پر سمجھنے کے لیے کافی نہیں۔ قرآن مجید کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے رسول اللہ ﷺ کی تشریحات، احادیث اور اہلِ علم کی رہنمائی بھی اہم ہے۔
Teaching Wisdom and Purification
اس رسول کی ایک ذمہ داری لوگوں کو حکمت کی تعلیم دینا بھی ہوگی۔ حکمت سے مراد دانائی، صحیح سمجھ اور درست طریقۂ عمل ہے۔
رسول کی ایک اور ذمہ داری لوگوں کا تزکیہ کرنا ہے، یعنی ان کے دلوں اور کردار کو برائیوں اور اخلاقی نجاستوں سے پاک کرنا۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ دعا بڑی دور اندیشی سے مانگی تھی۔ انہیں معلوم تھا کہ بیت اللہ کے اردگرد وقت گزرنے کے ساتھ لوگوں کی تعداد بڑھے گی اور ممکن ہے کہ بعد کے زمانوں میں لوگوں میں گمراہیاں پیدا ہوجائیں۔ اس لیے انہوں نے ایسی ہستی کے آنے کی دعا کی جو لوگوں کو اللہ کی آیات سنائے، کتاب اور حکمت سکھائے اور ان کا تزکیہ کرے۔
The Messenger from the Descendants of Ismail (AS)
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعا میں خاص طور پر فرمایا کہ رسول انہی لوگوں میں سے ہو۔
اس میں یہ حکمت بھی تھی کہ جو رسول ان کی اپنی قوم میں سے ہوگا وہ ان کی زبان، عادات، حالات اور معاشرت کو بہتر طور پر سمجھ سکے گا اور انہیں اللہ تعالیٰ کا پیغام زیادہ مؤثر انداز میں پہنچا سکے گا۔
یہ دعا بعد میں رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے ذریعے پوری ہوئی۔ آپ ﷺ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے اور آپ ﷺ نے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی آیات سنائیں، کتاب اور حکمت کی تعلیم دی اور ان کا تزکیہ فرمایا۔
Lessons from Surah Baqarah Ayat 128-129
Surah Baqarah Ayat 128-129 ہمیں کئی اہم سبق دیتی ہیں:
- اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ فرمانبرداری اور ثابت قدمی کی دعا کرنی چاہیے۔
- اپنی اولاد کے لیے بھی دین اور ہدایت کی دعا کرنی چاہیے۔
- عبادت اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق کرنی چاہیے۔
- اپنی غلطیوں پر ہمیشہ توبہ کرنی چاہیے۔
- قرآن مجید کی تلاوت ایک عظیم عبادت ہے۔
- قرآن کو سمجھنے کے لیے مستند علم اور اہلِ علم کی رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔
- کتاب کے ساتھ حکمت اور عملی تربیت بھی ضروری ہے۔
- دل اور کردار کی پاکیزگی دین کا اہم حصہ ہے۔
- اللہ تعالیٰ سے مانگی ہوئی دعا میں اپنی اور اپنی نسلوں کی اصلاح کو شامل کرنا چاہیے۔
Conclusion
Surah Baqarah Ayat 128-129 حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عظیم دعاؤں کو بیان کرتی ہیں۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری، عبادت کے صحیح طریقے، توبہ، قرآن کی تعلیم، حکمت اور تزکیۂ نفس کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔
یہ آیات ہمیں یہ بھی سکھاتی ہیں کہ ایک مومن کو صرف اپنی اصلاح کی فکر نہیں کرنی چاہیے بلکہ اپنی اولاد اور آنے والی نسلوں کی ہدایت کے لیے بھی اللہ تعالیٰ سے دعا کرنی چاہیے۔
قرآن مجید کی آیات کی تلاوت ایک مستقل مقصد ہے
