Surah Baqarah Ayat 109 – Quran Translation
اردو ترجمہ
اہل کتاب میں سے بہت سے لوگ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ وہ تمہیں تمہارے ایمان لانے کے بعد دوبارہ کفر کی حالت کی طرف لوٹا دیں، اس کے بعد کہ ان کے لیے حق واضح ہو چکا ہے۔ پس تم معاف کرو اور درگزر کرو، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا حکم لے آئے۔ بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔
English Translation
Many among the People of the Book wish to turn you back to disbelief after you have believed, even after the truth has become clear to them. So forgive and overlook until Allah brings His command. Surely, Allah is Powerful over all things.
Surah Baqarah Ayat 106-108 میں نسخ، اللہ تعالیٰ کی قدرت اور ایمان و کفر کے بارے میں مزید تفصیل بیان ہوئی ہے۔
مزید Quranic study کے لیے Quran.com پر آیت کو دیکھیں۔
Surah Baqarah Ayat 109 – Tafseer in Urdu
اہل کتاب سے مراد وہ لوگ ہیں جو کسی نہ کسی آسمانی کتاب کو مانتے ہیں، جیسے یہودی تورات کو اور عیسائی انجیل کو مانتے ہیں۔ لیکن ان کا یہ ماننا صرف دعویٰ تھا، کیونکہ اگر وہ حقیقت میں اپنی آسمانی کتابوں پر صحیح معنوں میں ایمان رکھتے تو نبی آخر الزمان حضرت محمد ﷺ پر بھی ایمان لاتے، کیونکہ سابقہ آسمانی کتابوں میں آپ ﷺ کی آمد اور آپ ﷺ پر ایمان لانے کی نشانیاں موجود تھیں۔
Surah Baqarah Ayat 109 میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو بتاتے ہیں کہ اہل کتاب میں سے بہت سے لوگ مسلمانوں کے ایمان لانے کے بعد انہیں دوبارہ کفر کی طرف لوٹانا چاہتے تھے۔ ان کا مقصد حق کی تلاش نہیں تھا بلکہ ان کے دلوں میں حسد اور عناد موجود تھا۔
Surah Baqarah Ayat 109 اور اہل کتاب کا حسد
یہود کو اس بات پر حسد تھا کہ آخری نبی حضرت محمد ﷺ بنو اسرائیل میں سے کیوں نہیں آئے بلکہ بنو اسماعیل میں سے آئے۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام سے پہلے اور بعد میں بہت سے انبیاء بنی اسرائیل میں مبعوث ہوئے، اس لیے وہ چاہتے تھے کہ آخری نبی بھی انہی میں سے ہوں۔
اسی حسد کی وجہ سے وہ مسلمانوں کے ایمان کو ختم کرنا چاہتے تھے۔ قرآن کریم واضح کرتا ہے کہ حق ان کے سامنے ظاہر ہو چکا تھا، لیکن ضد، حسد اور عناد نے انہیں ایمان لانے سے روک دیا۔
Surah Baqarah Ayat 109 ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ انسان کے دل کا حسد اسے حق قبول کرنے سے روک سکتا ہے، اس لیے مسلمان کو اپنے دل کو حسد اور کینہ سے پاک رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
Surah Baqarah Ayat 109 میں معاف کرنے کا حکم
اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ اہل کتاب کی طرف سے پیش کیے جانے والے غلط اعتراضات اور اذیتوں پر فی الحال انہیں معاف کرو اور درگزر کرو، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا حکم لے آئے۔
اس حکم میں مسلمانوں کے لیے صبر، برداشت اور حکمت کا بڑا سبق ہے۔ ہر غلط بات کا فوری جواب دینا ضروری نہیں ہوتا۔ بعض اوقات اللہ تعالیٰ کی طرف سے مناسب وقت اور مناسب حکم کا انتظار کرنا ہی بہتر ہوتا ہے۔
بعد میں مسلمانوں کو کفار کے مقابلے میں جہاد اور قتال کے احکام دیے گئے اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو غلبہ عطا فرمایا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی مدد کرنے پر پوری قدرت رکھتا ہے۔
Surah Baqarah Ayat 109 اور حسد کی مذمت
حسد ایک خطرناک اخلاقی بیماری ہے۔ حسد کرنے والا شخص دوسرے انسان کے پاس موجود نعمت کو ختم ہوتا دیکھنا چاہتا ہے، چاہے اس کا اپنا کوئی فائدہ نہ ہو۔
احادیث میں حسد کی سخت مذمت بیان ہوئی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے حسد سے بچنے کی تعلیم دی اور بتایا کہ حسد انسان کی نیکیوں کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔
اسی لیے مسلمان کو چاہیے کہ جب کسی دوسرے شخص کو اللہ تعالیٰ کی کوئی نعمت حاصل ہو تو حسد کرنے کے بجائے اللہ تعالیٰ سے اپنے لیے بھی فضل و کرم کی دعا کرے۔
بنی اسرائیل اور جادو کے واقعے کے بارے میں مزید جاننے کے لیے Surah Al-Baqarah Ayat 102 کی تفسیر پڑھیں۔
Surah Baqarah Ayat 109 – English Tafseer
The Surah Baqarah Ayat 109 explains that many among the People of the Book wished to turn the believers back to disbelief after they had accepted faith, even though the truth had already become clear to them.
The People of the Book refers primarily to those who followed earlier revealed scriptures, such as the Jews who followed the Torah and the Christians who followed the Gospel. Their scriptures contained signs concerning the coming of the final Prophet, Muhammad ﷺ.
However, jealousy and stubbornness prevented many of them from accepting the truth. They were particularly troubled by the fact that the final Prophet came from the descendants of Ismail عليه السلام rather than from the Children of Israel.
The verse therefore teaches Muslims an important lesson about patience, forgiveness and avoiding hatred. Allah instructed the believers to forgive and overlook until His command came.
Surah Baqarah Ayat 109 also reminds believers that Allah is fully capable of changing difficult circumstances. Even when Muslims appear weak and their opponents possess greater wealth and power, Allah’s power is unlimited.
Lessons from Surah Baqarah Ayat 109
1. حسد سے بچنا چاہیے
حسد انسان کے دل کو خراب کرتا ہے اور اسے حق قبول کرنے سے روک سکتا ہے۔ مسلمان کو چاہیے کہ دوسروں کی نعمتیں دیکھ کر حسد کے بجائے دعا کرے۔
2. حق واضح ہونے کے بعد ضد نہیں کرنی چاہیے
Surah Baqarah Ayat 109 بتاتی ہے کہ حق واضح ہوجانے کے باوجود ضد اور عناد انسان کو ایمان سے محروم کر سکتے ہیں۔
3. معاف کرنا ایک بڑی صفت ہے
اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو معافی اور درگزر کا حکم دیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان کو غصے اور انتقام کے بجائے صبر اور حکمت کو اختیار کرنا چاہیے۔
4. اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے
آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ذکر ہے۔ حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں، اللہ تعالیٰ کے لیے اپنے بندوں کو کامیابی اور غلبہ عطا کرنا مشکل نہیں۔
5. ایمان کی حفاظت ضروری ہے
Surah Baqarah Ayat 109 ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ مسلمان کو اپنے ایمان پر ثابت قدم رہنا چاہیے اور ایسے لوگوں کی باتوں سے متاثر نہیں ہونا چاہیے جو اسے ایمان سے دور کرنا چاہتے ہیں۔
Conclusion – Surah Baqarah Ayat 109
Surah Baqarah Ayat 109 ایک نہایت اہم آیت ہے جو ہمیں اہل کتاب کے حسد، حق کے واضح ہوجانے کے باوجود ضد و عناد، اور مسلمانوں کے لیے معافی و درگزر کے حکم کے بارے میں آگاہ کرتی ہے۔
اس آیت کا بنیادی سبق یہ ہے کہ مسلمان اپنے ایمان پر ثابت قدم رہے، حسد اور کینہ سے بچے، دوسروں کے ساتھ صبر اور حکمت کا معاملہ کرے اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی قدرت پر بھروسہ رکھے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن کریم کو سمجھنے، اس پر عمل کرنے، حسد اور کینہ سے بچنے اور اپنے ایمان کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
