Surah Baqarah Ayat 106 — English Translation
Whatever verse We abrogate or cause to be forgotten, We bring one better than it or one similar to it. Do you not know that Allah has power over all things?
Surah Baqarah Ayat 106 — Urdu Translation
ہم جس آیت کو منسوخ کرتے ہیں یا اسے بھلا دیتے ہیں، اس سے بہتر یا اس جیسی آیت لے آتے ہیں۔ کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے؟
Surah Al-Baqarah Ayat 104-105 میں ادبِ رسول ﷺ، الفاظ کے درست استعمال اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے بارے میں مزید تفصیل پڑھیں۔
Surah Baqarah Ayat 107 — English Translation
Do you not know that to Him belongs the kingdom of the heavens and the earth? And besides Allah, you have no protector and no helper.
Surah Baqarah Ayat 107 — Urdu Translation
کیا تم نہیں جانتے کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کے لیے ہے، اور اللہ کے مقابلے میں تمہارا کوئی دوست اور مددگار نہیں ہے؟
Surah Baqarah Ayat 108 — English Translation
Or do you intend to ask your Messenger as Moses was questioned before? Whoever exchanges disbelief for faith has certainly strayed from the straight path.
Surah Baqarah Ayat 108 — Urdu Translation
کیا تم ارادہ کرتے ہو کہ اپنے رسول سے اسی طرح سوال کرو جیسے اس سے پہلے موسیٰ علیہ السلام سے سوال کیا گیا تھا؟ اور جو شخص کفر کو ایمان کے ساتھ تبدیل کرے گا، پس تحقیق وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔
Read Surah Al-Baqarah 106-108 on Quran.com
Surah Baqarah Ayat 106-108 — Tafseer
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نسخ کے مسئلے کو بیان فرما رہے ہیں۔
نسخ کا معنی اور مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کوئی حکم نازل فرمائیں اور پھر بندوں کے لیے اس حکم کو منسوخ فرما دیں اور اس کی جگہ کوئی دوسرا حکم عطا فرما دیں۔
یہود اور نصاریٰ اس مسئلے پر اعتراض کرتے تھے کہ اگر اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہیں اور ان کا علم ہر چیز پر محیط ہے تو ایسا کیوں ہوتا ہے کہ پہلے اللہ تعالیٰ ایک حکم دیتے ہیں اور پھر اس کو ختم کرکے دوسرا حکم دیتے ہیں؟
وہ کہتے تھے کہ ایسا تو وہ لوگ کرتے ہیں جن کا علم ناقص ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ اس اعتراض کے جواب میں فرماتے ہیں کہ جب ہم کسی آیت یا حکم کو منسوخ کرتے ہیں تو فوراً اس کی جگہ دوسرا حکم لے آتے ہیں جو پہلے حکم سے بہتر ہوتا ہے اور لوگوں کے لیے زیادہ آرام دہ اور نفع مند ہوتا ہے۔
بنی اسرائیل کے مزید واقعات اور ان کے بارے میں قرآنِ کریم کی تفصیل جاننے کے لیے Surah Al-Baqarah Ayat 102 کی تفسیر بھی پڑھیں۔
Surah Baqarah Ayat — Example of Abrogation
اس کی مثال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابتدائے اسلام میں مسلمانوں کو بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنے کا حکم دیا۔
پھر اللہ تعالیٰ نے کچھ عرصے بعد اس حکم کو تبدیل فرما دیا اور نیا حکم دیا کہ بیت اللہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھی جائے۔
کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے؟ جب اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہیں تو وہ اپنی حکمت کے مطابق اپنے احکام کو تبدیل کرنے پر بھی قادر ہیں۔
Surah Baqarah Ayat — Two Types of Divine Commands
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی دو قسمیں ہیں:
- احکامِ تکوینیہ
- احکامِ تشریعیہ
Ahkam-e-Takwiniyah
احکامِ تکوینیہ ان احکام کو کہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے کلمہ “کن” سے صادر ہوتے ہیں۔ شریعت کا ان سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
مثلاً اولاد کا پیدا ہونا اور پھر مقررہ وقت کے بعد اس کا مر جانا۔
اسی طرح مال و دولت کا مل جانا اور پھر کچھ عرصے بعد اس کا چھن جانا بھی احکامِ تکوینیہ میں شامل ہے۔
ان احکامِ تکوینیہ کے بارے میں انسان یہ نہیں کہتا:
“اے اللہ! اگر تو نے اولاد کو واپس لینا تھا تو پہلے دی ہی کیوں تھی؟”
یا:
“اگر مال وغیرہ واپس لینا تھا تو پہلے دیا کیوں تھا؟”
حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جب تم احکامِ تکوینیہ میں کوئی اعتراض نہیں کرتے تو تمہیں احکامِ تشریعیہ کے بارے میں بھی کوئی اعتراض نہیں کرنا چاہیے۔
Surah Baqarah Ayat — Allah Is the True King
اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ آسمانوں اور زمین پر بادشاہی اللہ ہی کی ہے۔
اگر اللہ تعالیٰ تمہیں عذاب دینا چاہیں تو تمہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے کوئی نہیں بچا سکتا۔
اس لیے اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو جو حکم دینا چاہیں دے سکتے ہیں۔ جس طرح دنیا کے بادشاہ اپنی رعایا کو اپنی مرضی کے مطابق حکم دیتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ تو حقیقی بادشاہ ہیں۔
لہٰذا اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے لیے جو حکم چاہیں مقرر فرما سکتے ہیں۔
Surah Baqarah Ayat — Questions to the Prophets
اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ کیا تم ان لوگوں کی طرح بننا چاہتے ہو جو اپنے انبیاء علیہم السلام کو تنگ کرنے کے لیے مختلف قسم کے سوالات کرتے تھے؟
یہودیوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ جب تک ہم اللہ تعالیٰ کو نہیں دیکھیں گے، ہم آپ پر ایمان نہیں لائیں گے۔
اسی طرح کے بے تکے اعتراضات مشرکین نے بھی کیے۔
مثلاً وہ کہتے تھے کہ ہم آپ کے کہنے سے ایمان نہیں لائیں گے، اللہ تعالیٰ خود ہمارے سامنے آئیں اور فرشتے ان کے پیچھے قطار میں کھڑے ہوں، اور اللہ تعالیٰ خود آکر کہیں کہ یہ میرا نبی ہے اور قرآن یہ کتاب ہے، اس پر عمل کرو۔
یہ مطالبات حق کی تلاش کے لیے نہیں بلکہ ضد اور عناد کی وجہ سے کیے جاتے تھے۔
Surah Baqarah Ayat — Faith and Disbelief
جو آدمی کفر کو ایمان کے ساتھ تبدیل کرے گا، یعنی ایمان چھوڑ کر کفر اختیار کرے گا، تو تحقیق وہ سیدھے راستے سے گمراہ ہوگیا۔
اللہ تعالیٰ گمراہی سے اور گمراہ کرنے والوں سے محفوظ فرمائے۔
آمین۔
Lessons from Surah Baqarah Ayat 106-108
- اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہیں۔
- اللہ تعالیٰ کے تمام احکام حکمت پر مبنی ہیں۔
- اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کے حقیقی مالک ہیں۔
- اللہ تعالیٰ کے احکام کے سامنے اعتراض کے بجائے اطاعت اختیار کرنی چاہیے۔
- بے مقصد اور ضد پر مبنی سوالات سے بچنا چاہیے۔
- ایمان کو چھوڑ کر کفر اختیار کرنا سیدھے راستے سے گمراہی کا سبب ہے۔
- اللہ تعالیٰ کی حکمت پر مکمل یقین رکھنا چاہیے۔
English Tafseer — Surah Baqarah Ayat 106-108
These verses explain the concept of abrogation. Abrogation means that Allah may replace a previously given ruling with another ruling according to His wisdom and divine plan.
The Jews and Christians objected to this concept. They questioned why a ruling would be given first and then replaced by another ruling if Allah already knew everything.
Allah explains that whenever a verse or ruling is abrogated, He brings something better or similar to it. Such changes are based on His perfect knowledge, wisdom and benefit for His servants.
An example is the change of the direction of prayer. In the early period of Islam, Muslims were commanded to pray towards Bayt al-Maqdis. Later, Allah commanded Muslims to turn towards the Ka’bah.
This does not indicate any deficiency in divine knowledge. Rather, it demonstrates Allah’s complete authority and wisdom.
Hazrat Maulana Ashraf Ali Thanwi (رحمۃ اللہ علیہ) explained that Allah’s commands can be understood as Takwini and Tashri’i commands. Takwini commands relate to Allah’s creation and decree, while Tashri’i commands relate to the laws and guidance given to people.
For example, a person receives wealth and later loses it, or a child is born and eventually passes away. People generally do not question why Allah gave something if He was going to take it back later.
Similarly, Allah’s legislative commands should be accepted with humility and trust in His wisdom.
These verses also remind believers that Allah owns the kingdom of the heavens and the earth. No protector or helper can stand against His will.
The verses further warn against asking the Messenger questions in the manner in which previous nations questioned their prophets. The Jews questioned Prophet Musa (Moses), peace be upon him, and demanded to see Allah before believing.
The polytheists also made unreasonable demands from the Prophet Muhammad ﷺ.
Finally, Allah warns that whoever exchanges faith for disbelief has certainly gone astray from the straight path.
May Allah protect us from misguidance and from those who mislead others.
Ameen.
Meta Description
Surah Baqarah Ayat 106-108 with Urdu and English translation and detailed Tafseer about abrogation, Allah’s power and faith.
Focus Keyword
Surah Baqarah Ayat
Short URL
hafiztalha.com/surah-baqarah-ayat/
