Ayat 4 :
وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ
Translation :
“And those who believe in what has been revealed to you, and what was revealed before you, and they have firm faith in the Hereafter.”
اور وہ لوگ ایمان لاتے ہیں اس وحی پر جو اپ کی طرف نازل کی اور اس وہی پر جو اپ سے پہلے انبیاء پر نازل کی اور وہ اخرت پر یقین رکھتے ہیں is
🟢 متقین کی چوتھی صفت | Surah Al-Baqarah Ayat 4 Tafseer (Urdu & English)
✨ Tafseer (Urdu + English):
اس آیت میں Surah Al-Baqarah متقین کی چوتھی صفت بیان کی گئی ہے کہ متقین وہ لوگ ہیں جو اس وحی پر ایمان لاتے ہیں جو آپ ﷺ پر نازل کی گئی اور اسی طرح اس وحی پر بھی ایمان لاتے ہیں جو آپ سے پہلے انبیاء پر نازل کی گئی۔
اگرچہ بعد میں لوگوں نے اس وحی کو محفوظ نہیں رکھا اور اس میں تحریف کر دی، پھر بھی اصل وحی پر ایمان رکھنا ضروری ہے۔
In this verse, the fourth quality of the righteous is mentioned: they believe in the revelation sent to Prophet Muhammad ﷺ as well as the revelations sent to earlier prophets. Even though people later altered those scriptures, belief in the original revelation remains essential.
اس آیت میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ آپ ﷺ آخری نبی ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد نہ کوئی وحی نازل ہوگی اور نہ کوئی نیا پیغمبر آئے گا۔ کیونکہ اگر آپ کے بعد کوئی نبی آنا ہوتا یا وحی آنی ہوتی تو اس پر بھی ایمان لانے کا ذکر ضرور کیا جاتا۔
This verse also اشاره to the fact that Prophet Muhammad ﷺ is the final Prophet. No new revelation or prophet will come after him. If there were to be any, it would have been mentioned here.
جیسا کہ پچھلے پیغمبروں سے یہ عہد لیا گیا تھا کہ اگر ان کی زندگی میں نبی آخر الزمان ﷺ تشریف لے آئیں تو ان پر ایمان لانا ہوگا۔
Earlier prophets were also commanded that if the final Prophet ﷺ appeared in their lifetime, they must believe in him.
اور آخرت سے مراد وہ زندگی ہے جو مرنے کے بعد شروع ہوگی اور ہمیشہ رہے گی۔ اسی زندگی میں انسان کا نامہ اعمال اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کیا جائے گا اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ اسی کے مطابق جنت یا جہنم کا فیصلہ ہوگا۔
The Hereafter refers to the eternal life after death, where every person’s deeds will be presented before Allah, and they will be rewarded or punished accordingly, leading to Paradise or Hell.
آخرت پر ایمان لانا اگرچہ ایمان بالغیب میں شامل ہے، لیکن اس کو خاص طور پر الگ ذکر کیا گیا ہے کیونکہ اس کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔
Although belief in the Hereafter is part of the unseen, it is mentioned separately due to its great importance.
کیونکہ آخرت کا عقیدہ انسان کو برے اعمال سے بچاتا ہے اور اچھے اعمال کی طرف راغب کرتا ہے۔ جب انسان کو یقین ہوتا ہے کہ اسے ایک دن اللہ کے سامنے پیش ہونا ہے اور اپنے ہر عمل کا حساب دینا ہے تو وہ برائی سے بچنے اور نیکی کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
Belief in the Hereafter prevents a person from evil deeds and encourages good actions, as one knows they will be accountable before Allah
Ayat 5 :
أُولَٰئِكَ عَلَىٰ هُدًى مِّن رَّبِّهِمْ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ
Translation :
“They are the ones who are upon guidance from their Lord, and they are the ones who are successful.”
ترجمہ :
ترجمہ وہی لوگ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور وہی لوگ کامیاب ہیں
🟢 متقین کی چوتھی صفت | Surah Al-Baqarah Ayat 4 Tafseer (Urdu & English)
✨ Tafseer (Urdu + English):
اس آیت میں متقین کا انجام بیان کیا گیا ہے کہ متقین اللہ کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور وہی دنیا اور آخرت میں کامیاب ہیں۔
In this verse, the outcome of the righteous is described: they are upon guidance from their Lord, and they are the ones who are successful both in this world and in the Hereafter.
“Related Tafseer / مزید پڑھیں”
📞 Contact for Quran & Islamic Guidance
Online Quran reading, Tafseer, Namaz guidance aur Rohani Ilaj ke liye WhatsApp par hum se rabta karein.
👉 WhatsApp par contact karein:
👉 WhatsApp: https://wa.me/923005734387
