Surah Al-Baqarah Ayat 27 Translation & Tafseer
آیتِ مبارکہ (Arabic Text)
الَّذِينَ يَنقُضُونَ عَهْدَ اللَّهِ مِنۢ بَعْدِ مِيثَاقِهِ وَيَقْطَعُونَ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَن يُوصَلَ وَيُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ ۚ أُولَٰئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ
ترجمہ
وہ لوگ جو توڑتے ہیں اللہ کے عہد کو اس کو پکا کرنے کے بعد اور کاٹتے ہیں ان چیزوں کو جن کو اللہ نے ملانے کا حکم دیا ہے اور زمین میں فساد مچاتے ہیں وہی لوگ خسارے میں ہیں۔
Tafseer in Urdu
اکثر مفسرین کے نزدیک عہد سے مراد وہ عہد الست ہے جو اللہ تعالی نے انسانوں کو پیدا کرنے سے بہت پہلے آنے والی تمام روحوں کو جمع کر کے ان سے لیا تھا کہ میں تمہارا رب نہیں ہوں تو سب نے یک زبان ہو کر کہا تھا کہ آپ ہی ہمارے رب ہیں۔ اللہ تعالی نے سورۃ الاعراف میں اس کا تذکرہ کیا ہے اور اس کو پکا کرنے سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالی اس عہد کی یاد دہانی کے لیے وقتاً فوقتاً انبیاء کو بھیجتے رہے ہیں جنہوں نے آ کر انسانوں کو ان کا کیا ہوا وعدہ یاد دلایا ہے اور اللہ کے خالق و مالک ہونے کے دلائل لوگوں کے سامنے پیش کیے ہیں۔
یا عہد سے مراد انسان کا اللہ تعالی سے کیے ہوئے وہ عملی اور خاموش عہد مراد ہے جو انسان پیدا ہوتے ہی اللہ تعالی سے کرتا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے جو شخص کسی ملک میں پیدا ہوتا ہے وہ پیدا ہوتے ہی یہ عہد کر لیتا ہے کہ وہ اس ملک کے قوانین کا احترام کرے گا اور ان کے مطابق زندگی گزارے گا خواہ اس نے زبان سے کچھ نہ کہا ہو، اس کا اس ملک میں پیدا ہونا ہی اس عہد کے قائم مقام ہے۔
اسی طرح جو شخص بھی اس کائنات میں پیدا ہوتا ہے وہ پیدا ہوتے ہی اللہ تعالی سے یہ عہد کر لیتا ہے کہ وہ اس کی ہدایات کے مطابق زندگی گزارے گا۔
English Translation
Those who break the covenant of Allah after confirming it, sever what Allah has commanded to be joined, and spread corruption on earth — it is they who are the losers.
Tafseer in English
According to most commentators, the covenant mentioned in this verse refers to the covenant taken by Allah before the creation of mankind, when all souls were gathered and Allah asked them: “Am I not your Lord?” and all replied together: “Yes, You are our Lord.” Allah mentions this event in Surah Al-A’raf.
The strengthening of this covenant means that Allah repeatedly sent Prophets to remind humanity of this promise and presented clear proofs of Allah being the Creator and Owner of everything.
Another explanation is that this covenant refers to the silent and practical promise every human makes with Allah upon being born into this world. Just as a person born in a country automatically accepts living according to its laws, similarly every person born in this universe enters into a covenant with Allah to live according to His guidance.
You can also read the previous verse explanation here:
Surah Al-Baqarah Ayat 26 Tafseer
Conclusion | خلاصہ
سورۃ البقرہ آیت 27 ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اللہ تعالی کے عہد کو پورا کرنا، رشتوں کو قائم رکھنا اور زمین میں فساد سے بچنا ایک سچے مومن کی نشانی ہے۔ اللہ تعالی نے انسانوں کی رہنمائی کیلئے انبیاء علیہم السلام کو بھیجا تاکہ وہ انسانوں کو ان کے اصل مقصدِ زندگی کی یاد دہانی کروائیں۔ جو لوگ اللہ کے احکامات پر عمل کرتے ہیں وہی دنیا و آخرت میں کامیاب ہوتے ہیں جبکہ نافرمانی اور فساد انسان کو خسارے کی طرف لے جاتا ہے۔
Surah Al-Baqarah Ayat 27 teaches us the importance of fulfilling Allah’s covenant, maintaining relationships, and avoiding corruption on earth. Allah sent Prophets to guide humanity and remind people of their true purpose in life. Those who follow Allah’s commands achieve success in this world and the Hereafter, while disobedience and spreading corruption lead to loss and failure.
Contact for Online Quran Services
For Online Quran Translation, Tafseer, Islamic Knowledge & Rohani Ilaj, contact us now:
📞 +92 300 5734387
🌐 Visit Our Website:
Hafiz Talha Official Website
