Surah Baqarah Ayat Tafseer 104-105
Surah Baqarah Ayat 104-105 Urdu Translation
Surah Baqarah Ayat 104-105 Urdu Translation
آیت 104
اے ایمان والو! “راعنا” نہ کہا کرو بلکہ “انظرنا” کہا کرو اور غور سے سنا کرو، اور کافروں کے لیے دردناک عذاب ہے۔
آیت 105
اہلِ کتاب میں سے کافر اور مشرکین اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ تم پر تمہارے رب کی طرف سے کوئی خیر نازل ہو، حالانکہ اللہ اپنی رحمت کے لیے جسے چاہتا ہے خاص کر لیتا ہے، اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔
Surah Baqarah Ayat 104-105 — English Translation
Verse 104
O believers! Do not say “Rā’inā”; rather, say “Unẓurnā” and listen attentively. And for the disbelievers there is a painful punishment.
Verse 105
Neither the disbelievers among the People of the Book nor the polytheists like that any good should be sent down to you from your Lord. But Allah specifically grants His mercy to whom He wills, and Allah is the Possessor of great bounty.
Surah Baqarah Ayat Tafseer 104-105 Urdu Tafseer
ان آیات میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ادبِ رسول ﷺ اور گفتگو کے مناسب الفاظ اختیار کرنے کی تعلیم فرماتے ہیں۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں حاضر ہوتے تھے۔ آپ ﷺ کی مجلس میں مختلف قسم کے لوگ آتے تھے؛ کچھ ذہین تھے، کچھ کم فہم، کچھ پڑھے لکھے اور کچھ ان پڑھ، اسی لیے بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ ﷺ سے عرض کرتے کہ “راعنا” یعنی ہماری رعایت فرمائیے تاکہ ہم آپ کی بات کو اچھی طرح سمجھ سکیں۔
یہ لفظ عربی زبان میں درست معنی رکھتا تھا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی نیت بھی بالکل درست تھی، لیکن یہودی اس لفظ کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کرتے اور اس کے ذریعے رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے کی کوشش کرتے تھے۔
اسی وجہ سے مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ “راعنا” کے بجائے “انظرنا” کہا کریں، جس کا مفہوم ہے: ہماری طرف توجہ فرمائیے یا ہمیں مہلت دیجیے تاکہ ہم بات سمجھ سکیں۔
اس سے ایک اہم سبق یہ ملتا ہے کہ مسلمان کو ایسے الفاظ سے بھی بچنا چاہیے جنہیں غلط لوگ غلط معنی میں استعمال کر سکتے ہوں، خواہ بولنے والے کی نیت درست ہی کیوں نہ ہو۔
رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ادب
یہودیوں میں سے بعض لوگ رسول اللہ ﷺ کو سلام کرنے کے بجائے ایسے الفاظ استعمال کرتے جن میں ظاہری طور پر سلام کا انداز ہوتا، لیکن ان کا مقصد بددعا اور گستاخی کرنا ہوتا تھا۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے “السّام علیکم” کہا، جس کا مطلب موت کی دعا تھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس پر سخت جواب دیا، لیکن رسول اللہ ﷺ نے نرمی اختیار کرتے ہوئے فرمایا کہ میں نے اسے “وعلیک” کہا تھا، یعنی تم پر بھی۔
اس واقعے سے رسول اللہ ﷺ کی بردباری، حکمت اور اعلیٰ اخلاق کا اندازہ ہوتا ہے۔
Surah Baqarah Ayat Tafseer (105)
اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اہلِ کتاب میں سے کافر اور مشرکین یہ پسند نہیں کرتے کہ مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی خیر نازل ہو۔
یہ لوگ اس بات پر بھی ناخوش تھے کہ اللہ تعالیٰ نے نبوت بنی اسرائیل کے بجائے حضرت محمد ﷺ کو عطا فرمائی۔ مشرکینِ مکہ بھی اس بات پر اعتراض کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغام کے لیے انہیں کیوں منتخب کیا۔
اللہ تعالیٰ واضح فرماتے ہیں کہ نبوت اللہ تعالیٰ کا فضل اور انتخاب ہے۔ یہ ایسی چیز نہیں کہ انسان اپنی محنت یا خواہش سے حاصل کر لے۔
اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت کے لیے منتخب فرماتا ہے، کیونکہ وہ خوب جانتا ہے کہ نبوت کی ذمہ داری کس شخص کو عطا کرنی ہے۔
وَاللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ
یعنی اللہ بڑے فضل والا ہے۔
قرآنِ کریم میں بنی اسرائیل سے متعلق مختلف واقعات اور ان کے اعمال کا ذکر بھی ملتا ہے۔ سورۃ البقرہ آیت 102 کی تفسیر میں اس موضوع سے متعلق مزید تفصیل پڑھیں۔
Surah Baqarah Ayat Tafseer 104-105
Tafseer of Verse 104
In this verse, Allah teaches the believers to maintain proper manners when speaking to the Messenger of Allah ﷺ.
The companions of the Prophet ﷺ came from different backgrounds. Some were highly intelligent, while others needed more time to understand. Therefore, they would sometimes say “Rā’inā”, meaning, “Please give us your attention and allow us time to understand.”
Although the companions used the word with a good intention and it had an acceptable meaning in Arabic, some Jewish people used the same expression in an insulting manner because of its usage in their language.
Therefore, Allah instructed the believers to use the word “Unẓurnā” instead. This teaches Muslims an important principle: they should avoid expressions that may be deliberately misunderstood or used by others for disrespect, even when their own intention is good.
The verse also teaches believers to listen carefully and attentively so that the Messenger ﷺ would not have to repeat himself unnecessarily.
Tafseer of Verse 105
Allah explains that the disbelievers among the People of the Book and the polytheists did not like the fact that Allah’s blessings and guidance were being given to the believers.
Some among the People of the Book were unhappy that prophethood had been granted to Prophet Muhammad ﷺ rather than remaining among the Children of Israel. The polytheists of Makkah also objected to the choice of Prophet Muhammad ﷺ.
Allah gives a clear answer:
“Allah specifically grants His mercy to whom He wills.”
Prophethood is not something that a person can obtain merely through personal effort or desire. It is a special blessing and choice from Allah. Allah knows best whom He chooses for such a great responsibility.
Therefore, believers should recognize that Allah’s blessings are based on His perfect knowledge and wisdom.
اہم اسباق — Key Lessons
1. ادبِ رسول ﷺ
رسول اللہ ﷺ سے گفتگو کرتے ہوئے ہمیشہ ادب اور احترام کا خیال رکھنا چاہیے۔
2. الفاظ کا انتخاب
ایسے الفاظ سے بچنا چاہیے جنہیں غلط لوگ غلط معنی میں استعمال کر سکتے ہوں۔
3. غور سے سننا
دینی بات سنتے وقت پوری توجہ دینی چاہیے تاکہ بات اچھی طرح سمجھ میں آئے۔
4. اللہ کا فضل
اللہ تعالیٰ اپنی رحمت اور فضل کے لیے جسے چاہتا ہے منتخب فرماتا ہے۔
5. حسد سے بچنا
دوسروں کو ملنے والی اللہ کی نعمتوں پر حسد کرنے کے بجائے اللہ کے فیصلوں پر راضی رہنا چاہیے۔
6. نبوت اللہ کی عطا ہے
نبوت انسان کی محنت سے حاصل ہونے والی چیز نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا خاص انتخاب اور فضل ہے۔
