Introduction | تمہید
Tafsir of Surah Al-Baqarah 2:60-61
When Allah Almighty saved Bani Israel from the oppression of Pharaoh through Prophet Musa (AS), He continuously blessed them with His favors. During their stay in the wilderness, Allah provided food and water miraculously. These verses of Surah Al-Baqarah highlight Allah’s mercy upon Bani Israel and their repeated acts of ingratitude.
جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قیادت میں بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم و ستم سے نجات عطا فرمائی تو ان پر مسلسل اپنی نعمتوں کی بارش فرمائی۔ وادیِ تیہ میں قیام کے دوران اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے کھانے اور پینے کا معجزانہ انتظام فرمایا۔ سورۃ البقرہ کی یہ آیات اللہ تعالیٰ کی رحمت اور بنی اسرائیل کی بار بار ناشکری کو بیان کرتی ہیں۔
Twelve Springs from the Rock
پتھر سے بارہ چشموں کا جاری ہونا
Allah says:
“And when Musa prayed for water for his people, We said: Strike the rock with your staff. Then twelve springs gushed forth from it. Every tribe knew its drinking place.”
جب بنی اسرائیل کو پیاس لگی تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اپنی لاٹھی پتھر پر ماریں۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایسا کیا تو اللہ کے حکم سے اس پتھر سے بارہ چشمے جاری ہو گئے۔
بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے تھے، اس لیے ہر قبیلے کے لیے الگ چشمہ مقرر کیا گیا تاکہ ان کے درمیان پانی کے معاملے میں جھگڑا نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا کہ اللہ کے رزق سے کھاؤ، پیو اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ۔
Demand for Inferior Food
بہتر نعمتوں کے بدلے کمتر چیزوں کا مطالبہ
کچھ عرصہ بعد بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا:
“We cannot endure one kind of food. Ask your Lord to bring forth for us vegetables, cucumbers, garlic, lentils, and onions.”
انہوں نے من و سلویٰ جیسی بہترین نعمتوں کے باوجود دنیاوی سبزیوں اور دالوں کا مطالبہ کیا۔ اس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا:
“Would you exchange that which is better for that which is inferior?”
یعنی کیا تم اللہ کی عطا کردہ بہترین نعمتوں کے بدلے کمتر چیزیں حاصل کرنا چاہتے ہو؟
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر تمہیں یہ چیزیں چاہیے تو کسی شہر میں چلے جاؤ، وہاں تمہیں یہ سب کچھ مل جائے گا۔
Punishment for Ingratitude
ناشکری کی سزا
بہتر نعمتوں کو چھوڑ کر معمولی چیزوں کا مطالبہ کرنے کی وجہ سے بنی اسرائیل پر ذلت اور مسکینی مسلط کر دی گئی۔ وہ اللہ تعالیٰ کے غضب کے مستحق بن گئے۔
قرآن مجید بیان کرتا ہے کہ:
“They incurred the wrath of Allah because they used to reject the signs of Allah and kill the prophets unjustly.”
ان پر اللہ کا غضب اس لیے نازل ہوا کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتے تھے اور انبیائے کرام علیہم السلام کو ناحق قتل کرتے تھے۔
Why Did Bani Israel Face Allah’s Wrath?
بنی اسرائیل اللہ کے غضب کے مستحق کیوں بنے؟
بنی اسرائیل کی سب سے بڑی غلطیاں یہ تھیں:
- اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار۔
- انبیائے کرام علیہم السلام کی نافرمانی۔
- انبیاء کو ناحق قتل کرنا۔
- مسلسل گناہوں اور سرکشی میں مبتلا رہنا۔
- اللہ تعالیٰ کے احکامات سے تجاوز کرنا۔
یہی اعمال ان کی ذلت اور رسوائی کا سبب بنے۔
Important Lesson for Muslims
مسلمانوں کے لیے اہم سبق
ان آیات سے ہمیں کئی اہم اسباق ملتے ہیں:
- اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر ادا کرنا چاہیے۔
- ناشکری انسان کو ذلت کی طرف لے جاتی ہے۔
- اللہ کے احکامات کی نافرمانی تباہی کا سبب بنتی ہے۔
- انبیائے کرام کا احترام ایمان کا حصہ ہے۔
- زمین میں فساد پھیلانے سے بچنا چاہیے۔
Conclusion
خلاصہ
سورۃ البقرہ کی آیات 60-61 ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی قدر کرنی چاہیے، اس کا شکر ادا کرنا چاہیے اور اس کے احکامات کی اطاعت کرنی چاہیے۔ بنی اسرائیل کی تاریخ ہمارے لیے عبرت کا سامان ہے کہ ناشکری، نافرمانی اور سرکشی انسان کو اللہ تعالیٰ کے غضب کا مستحق بنا دیتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن مجید سے ہدایت حاصل کرنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
Want to learn more about important Hanafi rulings? Read our detailed article on Is Combining Two Prayers in Islam Allowed? Hanafi Ruling.
Read Surah Al-Baqarah 2:60-61 on Quran.com
